كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

حدثنا زهير بن حرب ، حدثنا عمر بن يونس الحنفي ، حدثنا عكرمة بن عمار ، حدثنا إسحاق بن ابي طلحة ، حدثني انس بن مالك وهو عم إسحاق، قال: بينما نحن في المسجد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذ جاء اعرابي، فقام يبول في المسجد، فقال اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: مه، مه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا تزرموه، دعوه "، فتركوه حتى بال، ثم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم دعاه، فقال له: " إن هذه المساجد، لا تصلح لشيء من هذا البول، ولا القذر، إنما هي لذكر الله عز وجل، والصلاة، وقراءة القرآن "، او كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فامر رجلا من القوم، فجاء بدلو من ماء، فشنه عليه ".

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے مسجد میں، اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کہا: ہائیں ہائیں کیا کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب مت روکو، جانے دو۔ لوگوں نے چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ وہ پیشاب کر چکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: مسجدیں پیشاب اور نجاست کے لائق نہیں یہ تو اللہ کی یاد کے لئے اور نماز اور قرآن پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔ یا ایسا ہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر ایک شخص کو حکم کیا وہ ایک ڈول پانی کا لایااور اس پر بہا دیا۔

صحيح مسلم # 661
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp