كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن عبد الله بن بزيع ، حدثنا يزيد يعني ابن زريع ، حدثنا حميد الطويل ، حدثنا بكر بن عبد الله المزني ، عن عروة بن المغيرة بن شعبة ، عن ابيه ، قال: " تخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتخلفت معه، فلما قضى حاجته، قال: امعك ماء؟ فاتيته بمطهرة، فغسل كفيه، ووجهه، ثم ذهب يحسر عن ذراعيه، فضاق كم الجبة، فاخرج يده من تحت الجبة، والقى الجبة على منكبيه، وغسل ذراعيه، ومسح بناصيته، وعلى العمامة، وعلى خفيه، ثم ركب، وركبت، فانتهينا إلى القوم، وقد قاموا في الصلاة يصلي بهم عبد الرحمن بن عوف، وقد ركع بهم ركعة، فلما احس بالنبي صلى الله عليه وسلم، ذهب يتاخر، فاوما إليه، فصلى بهم، فلما سلم، قام النبي صلى الله عليه وسلم، وقمت، فركعنا الركعة التي سبقتنا ".

‏‏‏‏ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں پیچھے رہ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تمہارے پاس پانی ہے؟ میں ایک چھاگل لے کر آیا پانی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے اور منہ دھویا پھر باہیں آستینوں سے نکالنا چاہیں تو آستین تنگ ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے سے ہاتھ کو نکالا اور جبہ کو اپنے مونڈھوں پر ڈال دیا اور دونوں ہاتھ دھوئے اور پیشانی پر مسح کیا اور عمامہ پر اور موزوں پر پھر سوار ہوئے میں بھی سوار ہوا۔ جب اپنے لوگوں میں پہنچے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا اپنی جگہ پر رہو۔ آخر انہوں نے نماز پڑھائی جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں بھی کھڑا ہوا اور ایک رکعت جو ہم سے پہلے ہو چکی تھی پڑھ لی۔

صحيح مسلم # 633
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp