حدثنا حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا سليمان يعني ابن بلال ، عن يحيى بن سعيد ، عن محمد بن يحيى ، عن عمه واسع بن حبان ، قال: كنت اصلي في المسجد، وعبد الله بن عمر مسند ظهره إلى القبلة، فلما قضيت صلاتي، انصرفت إليه من شقي، فقال عبد الله ، يقول ناس: إذا قعدت للحاجة تكون لك، فلا تقعد مستقبل القبلة، ولا بيت المقدس، قال عبد الله: ولقد رقيت على ظهر بيت، فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم، قاعدا على لبنتين، مستقبلا بيت المقدس لحاجته ".
واسع بن حبان سے روایت ہے، میں نماز پڑھتا تھا مسجد میں اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی پیٹھ قبلہ کی طرف لگائے ہوئے بیٹھے تھے، جب میں نماز پڑھ چکا تو ایک طرف سے ان کے پاس مڑا، عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ کہتے ہیں جب حاجت کو بیٹھو تو قبلہ اور بیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو اور میں چھت پر چڑھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا حاجت کے لئے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے (اور جب بیت المقدس کی طرف منہ ہو گا تو قبلہ کی طرف پیٹھ ہو گی)۔