كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، قالوا: حدثنا وكيع ، عن زكرياء بن ابي زائدة ، عن مصعب بن شيبة ، عن طلق بن حبيب ، عن عبد الله بن الزبير ، عن عائشة ، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، " عشر من الفطرة: قص الشارب، وإعفاء اللحية، والسواك، واستنشاق الماء، وقص الاظفار، وغسل البراجم، ونتف الإبط، وحلق العانة، وانتقاص الماء "، قال زكرياء: قال مصعب: ونسيت العاشرة، إلا ان تكون: المضمضة، زاد قتيبة، قال وكيع: انتقاص الماء يعني الاستنجاء.

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس باتیں پیدائشی سنت ہیں ایک مونچھیں کترنا، دوسری داڑھی چھوڑ دینا، تیسری مسواک کرنا، چوتھی ناک میں پانی ڈالنا، پانچویں ناخن کاٹنا، چھٹی پوروں کا دھونا (کانوں کے اندر اور ناک اور بغل اور رانوں کا دھونا) ساتویں بغل کے بال اکھیڑنا، آٹھویں زیرِ ناف کے بال لینا، نویں پانی سے استنجا کرنا۔ (یا شرم گاہ پر وضو کے بعد تھوڑا سا پانی چھڑک لینا) مصعب نے کہا: میں دسویں بات بھول گیا۔ شاید کلی کرنا ہو۔ وکیع نے کہا: «انْتِقَاصُ الْمَاءِ» سے (جو حدیث میں وارد ہے) استنجاء مراد ہے۔

صحيح مسلم # 604
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp