كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

حدثنا عبد بن حميد ، حدثنا ابو نعيم ، حدثنا إسماعيل بن مسلم ، حدثنا ابو المتوكل ، ان ابن عباس حدثه، " انه بات عند النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة، فقام نبي الله صلى الله عليه وسلم من آخر الليل، فخرج فنظر في السماء، ثم تلا هذه الآية في آل عمران إن في خلق السموات والارض واختلاف الليل والنهار حتى بلغ فقنا عذاب النار سورة آل عمران آية 190 - 191، ثم رجع إلى البيت فتسوك وتوضا، ثم قام فصلى، ثم اضطجع، ثم قام فخرج فنظر إلى السماء، فتلا هذه الآية، ثم رجع فتسوك، فتوضا، ثم قام فصلى ".

‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے، تو پچھلی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور باہر نکلے آسمان کی طرف دیکھا، پھر یہ آیت پڑھی جو سورۂ آل عمران میں ہے «إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ» سے «فَقِنَا عَذَابَ النَّار» تک پھر لوٹ کر اندر آئے اور مسواک کی اور وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھی، پھر لیٹ رہے، پھر اٹھے اور باہر نکلے اور آسمان کی طرف دیکھا اور یہی آیت پڑھی، پھر لوٹ کر اندر آئے اور مسواک اور وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔

صحيح مسلم # 596
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp