حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا خلف يعني ابن خليفة ، عن ابي مالك الاشجعي ، عن ابي حازم ، قال: " كنت خلف ابي هريرة وهو يتوضا للصلاة، فكان يمد يده حتى تبلغ إبطه، فقلت له: يا ابا هريرة، ما هذا الوضوء؟ فقال: يا بني فروخ، انتم هاهنا، لو علمت انكم هاهنا ما توضات هذا الوضوء، سمعت خليلي صلى الله عليه وسلم، يقول: " تبلغ الحلية من المؤمن، حيث يبلغ الوضوء ".
ابوحازم سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا۔ وہ نماز کے لئے وضو کر رہے تھے تو اپنے ہاتھ کو دھوتے تھے لمبا کر کے یہاں تک کہ بغل تک دھویا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ! یہ کیسا وضو ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فروخ کی اولاد! (فروخ ابراہیم کے ایک بیٹے کا نام ہے جس کی اولاد میں عجم کے لوگ ہیں ابوحازم بھی عجمی تھے) تم یہاں موجود ہو اگر میں جانتا تم یہاں موجود ہو تو اس طرح وضو نہ کرتا۔ میں نے سنا اپنے دوست سے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”قیامت کے دن مؤمن کو وہاں تک زیور پہنایا جائے گا جہاں تک اس کا وضو پہنچتا ہو۔“