كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

وحدثني زهير بن حرب ، حدثنا جرير . ح وحدثنا إسحاق ، اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن هلال بن يساف ، عن ابي يحيى ، عن عبد الله بن عمرو ، قال: " رجعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة إلى المدينة، حتى إذا كنا بماء بالطريق، تعجل قوم عند العصر، فتوضئوا وهم عجال، فانتهينا إليهم واعقابهم تلوح، لم يمسها الماء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويل للاعقاب من النار، اسبغوا الوضوء ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کو لوٹے۔ راہ میں ایک جگہ پانی ملا۔ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ لوگوں نے جلدی جلدی وضو کیا۔ ہم جو ان کے پاس پہنچے تو ان کی ایڑیاں سوکھی معلوم ہوتی تھیں، ان پر پانی نہیں لگا تھا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرابی ہے ایڑیوں کے لئے آگ سے پورا کرو وضو کو۔

صحيح مسلم # 570
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp