كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

حدثنا هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا ابن وهب ، قال: واخبرني مخرمة بن بكير ، عن ابيه ، عن حمران مولى عثمان، قال: " توضا عثمان بن عفان يوما، وضوءا حسنا، ثم قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم، توضا فاحسن الوضوء، ثم قال: " من توضا هكذا، ثم خرج إلى المسجد، لا ينهزه إلا الصلاة، غفر له ما خلا من ذنبه ".

‏‏‏‏ حمران سے روایت ہے، جو مولیٰ تھے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک دن اچھی طرح وضو کیا .... پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اچھی طرح بعد اس کے فرمایا: جو شخص اس طرح وضو کرے اور بعد اس کے مسجد میں جائے لیکن نماز ہی کے لیے اٹھے (یعنی اور کوئی کام کی نیت نہ ہو بلکہ خالص نماز ہی کے قصد سے اٹھے) تو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔

صحيح مسلم # 548
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp