كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء ، وإسحاق بن إبراهيم جميعا، عن وكيع ، قال ابو كريب، حدثنا وكيع، عن مسعر ، عن جامع بن شداد ابي صخرة ، قال: سمعت حمران بن ابان ، قال: كنت اضع لعثمان طهوره فما اتى عليه يوم، إلا وهو يفيض عليه نطفة، وقال عثمان حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، عند انصرافنا من صلاتنا هذه، قال مسعر: اراها العصر، فقال: ما ادري احدثكم بشيء، او اسكت، فقلنا: يا رسول الله، إن كان خيرا فحدثنا، وإن كان غير ذلك، فالله ورسوله اعلم، قال: " ما من مسلم يتطهر، فيتم الطهور الذي كتب الله عليه، فيصلي هذه الصلوات الخمس، إلا كانت كفارات لما بينها ".

‏‏‏‏ حمران بن ابان سے روایت ہے، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے طہارت کا پانی رکھا کرتا تھا وہ ہر روز ایک تھوڑے پانی سے نہا لیا کرتے (یعنی غسل کر لیتے واسطے تکمیل طہارت اور زیادتی ثواب کے) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے حدیث بیان کی۔ جب ہم اس نماز سے فارغ ہوئے مسعر نے کہا۔ (جو اس حدیث کا راوی ہے) میں سمجھتا ہوں وہ عصر کی نماز تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا تم سے اس ایک حدیث بیان کروں یا چپ رہوں۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اگر بہتری کی بات ہو تو بیان کیجئے اور جو بہتر نہ ہو تو اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان طہارت کرے پھر پوری طہارت کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے اور پانچوں نمازیں پڑھے اس کے وہ گناہ معاف ہو جائیں گے جو ان نمازوں کے بیچ میں کرے گا۔

صحيح مسلم # 546
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp