كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

حدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن سرح ، وحرملة بن يحيى التجيبي ، قالا: اخبرنا ابن وهب ، عن يونس ، عن ابن شهاب ، ان عطاء بن يزيد الليثي اخبره، ان حمران مولى عثمان اخبره، ان عثمان بن عفانرضي الله عنه، " دعا بوضوء فتوضا، فغسل كفيه ثلاث مرات، ثم مضمض واستنثر، ثم غسل وجهه ثلاث مرات، ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاث مرات، ثم غسل يده اليسرى مثل ذلك، ثم مسح راسه، ثم غسل رجله اليمنى إلى الكعبين ثلاث مرات، ثم غسل اليسرى مثل ذلك، ثم قال: رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا نحو وضوئي هذا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من توضا نحو وضوئي هذا، ثم قام فركع ركعتين، لا يحدث فيهما نفسه، غفر له ما تقدم من ذنبه "، قال ابن شهاب: وكان علماؤنا، يقولون: هذا الوضوء اسبغ ما يتوضا به احد للصلاة.

‏‏‏‏ سیدنا حمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو مولیٰ (آزاد کئے ہوئے غلام) تھے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، تو پہلے دونوں ہاتھوں کو (پہنچوں تک) تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین بار منہ دھویا، پھر داہنا ہاتھ دھویا کہنی تک تین بار، پھر بایاں ہاتھ دھویا تین بار، پھر مسح کیا سر پر، پھر داہنا پاؤں دھویا تین بار، پھر بایاں پاؤں دھویا تین بار، بعد اس کے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اسی طرح جیسے میں نے اب وضو کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعتیں پڑھے کھڑے ہو کر بیچ میں ان کے اور کسی خیال میں غرق نہ ہو تو اس کے اگلے گناہ سب بخش دئیے جائیں گے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے علماء کہتے تھے کہ یہ وضو سب وضوؤں میں پورا ہے جو نماز کے لیے کیا جائے۔

صحيح مسلم # 538
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp