كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثني ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا حفص بن غياث ، عن داود ، عن الشعبي ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت: قلت: " يا رسول الله، ابن جدعان، كان في الجاهلية يصل الرحم، ويطعم المسكين، فهل ذاك نافعه؟ قال: لا ينفعه، إنه لم يقل يوما: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! جدعان کا بیٹا جاہلیت کے زمانہ میں ناتے جوڑتا تھا (یعنی ناتے والوں کے ساتھ سلوک کرتا تھا) اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا کیا یہ کام اس کو فائدہ دیں گے (قیامت کے دن)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ فائدہ نہ دیں گے، اس نے کبھی نہ کہا کہ اے پروردگار! میرے گناہوں کو بخش دے قیامت کے دن۔

صحيح مسلم # 518
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp