كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

وحدثنا عبيد الله بن عمر القواريري ، ومحمد بن ابي بكر المقدمي ، ومحمد بن عبد الملك الاموي ، قالوا: حدثنا ابو عوانة ، عن عبد الملك بن عمير ، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل ، عن العباس بن عبد المطلب ، انه قال: " يا رسول الله، هل نفعت ابا طالب بشيء، فإنه كان يحوطك ويغضب لك؟ قال: نعم، هو في ضحضاح من نار، ولولا انا، لكان في الدرك الاسفل من النار ".

‏‏‏‏ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے ابوطالب کو بھی کچھ فائدہ پہنچایا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے غصے ہوتے تھے (یعنی جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتا تو اس پر غصے ہوتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں وہ جہنم کے اوپر کے درجہ میں ہیں۔ اور اگر میں نہ ہوتا (یعنی میں ان کے لئے دعا نہ کرتا) تو وہ جہنم کے نیچے کے درجہ میں ہوتے۔ (جہاں عذاب بہت سخت ہے)۔

صحيح مسلم # 510
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp