حدثنا ابو كامل الجحدري ، حدثنا يزيد بن زريع ، حدثنا التيمي ، عن ابي عثمان ، عن قبيصة بن المخارق ، وزهير بن عمرو ، قالا: " لما نزلت وانذر عشيرتك الاقربين سورة الشعراء آية 214، قال: انطلق نبي الله صلى الله عليه وسلم إلى رضمة من جبل، فعلا اعلاها حجرا، ثم نادى " يا بني عبد منافاه، إني نذير، إنما مثلي ومثلكم كمثل رجل راى العدو، فانطلق يربا اهله، فخشي ان يسبقوه فجعل يهتف: يا صباحاه "،
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ اور سیدنا زہیر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ دونوں نے کہا جب یہ آیت اتری: «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ”ڈرا تو اپنے نزدیکی ناتے والوں کو“ تو رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے ایک پتھر پر گئے اور سب سے اونچے پتھر پر کھڑے ہوئے پھر آواز دی: ”اے عبدمناف کے بیٹو! میں ڈرانے والا ہوں، میری مثال اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے دشمن کو دیکھا پھر وہ چلا اپنے اہل کو بچانے کو اور ڈرا کہیں دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تو لگا پکارنے یا صباحاہ!۔“