كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا وكيع ، ويونس بن بكير ، قالا: حدثنا هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " لما نزلت وانذر عشيرتك الاقربين سورة الشعراء آية 214، قام رسول الله صلى الله عليه وسلم على الصفا، فقال: يا فاطمة بنت محمد، يا صفية بنت عبد المطلب، يا بني عبد المطلب، لا املك لكم من الله شيئا، سلوني من مالي ما شئتم ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جب یہ آیت اتری، «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» ڈرا، تو اپنے کنبے والوں کو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے فاطمہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی اور اے صفیہ! عبدالمطلب کی بیٹی اور اے عبدالمطلب کے بیٹو! میں اللہ کے سامنے تم کو نہیں بچا سکتا، البتہ میرے مال میں سے تم جو جی چاہے مانگ لو۔

صحيح مسلم # 503
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp