كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا حدثنا ابو الربيع العتكي ، حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا معبد بن هلال العنزي . ح وحدثناه سعيد بن منصور واللفظ له، حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا معبد بن هلال العنزي ، قال: انطلقنا إلى انس بن مالك ، وتشفعنا بثابت، فانتهينا إليه وهو يصلي الضحى، فاستاذن لنا ثابت، فدخلنا عليه واجلس ثابتا معه على سريره، فقال له: يا ابا حمزة، إن إخوانك من اهل البصرة يسالونك، ان تحدثهم حديث الشفاعة، قال: حدثنا محمد صلى الله عليه وسلم، قال: " إذا كان يوم القيامة ماج الناس بعضهم إلى بعض، فياتون آدم، فيقولون له: اشفع لذريتك، فيقول: لست لها، ولكن عليكم بإبراهيم عليه السلام، فإنه خليل الله، فياتون إبراهيم، فيقول: لست لها، ولكن عليكم بموسى عليه السلام، فإنه كليم الله، فيؤتى موسى، فيقول: لست لها، ولكن عليكم بعيسى عليه السلام، فإنه روح الله وكلمته، فيؤتى عيسى، فيقول: لست لها، ولكن عليكم بمحمد صلى الله عليه وسلم، فاوتى، فاقول: انا لها، فانطلق فاستاذن على ربي، فيؤذن لي، فاقوم بين يديه، فاحمده بمحامد لا اقدر عليه الآن يلهمنيه الله، ثم اخر له ساجدا، فيقال لي: يا محمد، ارفع راس، وقل: يسمع لك، وسل تعطه، واشفع تشفع، فاقول: رب امتي، امتي، فيقال: انطلق، فمن كان في قلبه مثقال حبة من برة او شعيرة من إيمان، فاخرجه منها، فانطلق، فافعل، ثم ارجع إلى ربي، فاحمده بتلك المحامد، ثم اخر له ساجدا، فيقال لي: يا محمد، ارفع راسك، وقل: يسمع لك، وسل تعطه، واشفع تشفع، فاقول: امتي، امتي، فيقال لي: انطلق، فمن كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان، فاخرجه منها، فانطلق، فافعل، ثم اعود إلى ربي، فاحمده بتلك المحامد، ثم اخر له ساجدا، فيقال لي: يا محمد، ارفع راسك، وقل: يسمع لك، وسل تعطه، واشفع تشفع، فاقول: يا رب، امتي، امتي، فيقال لي: انطلق، فمن كان في قلبه، ادنى، ادنى، ادنى من مثقال حبة من خردل من إيمان، فاخرجه من النار، فانطلق، فافعل "، هذا حديث انس الذي انبانا به، فخرجنا من عنده، فلما كنا بظهر الجبان، قلنا: لو ملنا إلى الحسن، فسلمنا عليه وهو مستخف في دار ابي خليفة، قال: فدخلنا عليه فسلمنا عليه، فقلنا: يا ابا سعيد، جئنا من عند اخيك ابي حمزة، فلم نسمع مثل حديث حدثناه في الشفاعة، قال: هيه فحدثناه الحديث، فقال: هيه، قلنا: ما زادنا؟ قال: قد حدثنا به منذ عشرين سنة، وهو يومئذ جميع، ولقد ترك شيئا ما ادري انسي الشيخ او كره، ان يحدثكم فتتكلوا، قلنا له حدثنا فضحك، وقال: خلق الإنسان من عجل سورة الانبياء آية 37 ما ذكرت لكم هذا، إلا وانا اريد ان احدثكموه، ثم ارجع إلى ربي في الرابعة، فاحمده بتلك المحامد، ثم اخر له ساجدا، فيقال لي: يا محمد، ارفع راسك، وقل: يسمع لك، وسل تعط، واشفع تشفع، فاقول: يا رب، ائذن لي فيمن، قال: لا إله إلا الله، قال: ليس ذاك لك، او قال: ليس ذاك إليك، ولكن، وعزتي، وكبريائي، وعظمتي، وجبريائي، لاخرجن من قال: لا إله إلا الله "، قال: فاشهد على الحسن ، انه حدثنا به، انه سمع انس بن مالك اراه، قال: قبل عشرين سنة، وهو يومئذ جميع.

‏‏‏‏ معبد بن ہلال عنزی سے روایت ہے کہ ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ثابت کی سفارش چاہی (ان سے ملنے کے لئے) آخر ہم ان تک پہنچے۔ وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ثابت نے ہمارے لئے اجازت مانگی اندر آنے کی، ہم اندر گئے، انہوں نے ثابت کو اپنے ساتھ بٹھایا تخت پر۔ ثابت نے کہا: اے ابوحمزہ (یہ کنیت ہے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی) تمہارے بھائی بصرہ والے چاہتے ہیں تم ان کو شفاعت کی حدیث سناؤ۔ انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے: جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کے پاس جائیں گے: پہلے آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ کہیں گے: تم اپنی اولاد کی سفارش کرو (اللہ کے پاس تاکہ وہ نجات دے اس آفت سے) وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں، لیکن تم ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے دوست ہیں۔ لوگ ان کے پاس جائیں گے وہ کہیں گے میں اس قابل نہیں، لیکن تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ کلیم اللہ ہیں (یعنی اللہ نے ان سے کلام کیا بلاواسطہ) لوگ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں، لیکن تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ روح اللہ ہیں اور اس کا کلمہ ہیں (یعنی بن باپ کے اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں) لوگ ان کے پاس جائیں گے، وہ کہیں گے: میں اس لائق نہیں لیکن تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے میں کہوں گا، اچھا یہ میرا کام ہے اور چلوں گا اور اللہ تعالیٰ سے اجازت مانگوں گا (باریاب ہونے) مجھے اجازت ملے گی، میں اس کے سامنے کھڑا ہوں گا۔ اور ایسی ایسی تعریفیں اس کی بیان کروں گا جو اب میں نہیں بیان کر سکتا۔ اس وقت اللہ میرے دل میں ڈال دے گا، بعد اس کے سجدے میں گر پڑوں گا۔ آخر حکم ہو گا، اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ ہم سنیں گے اور مانگ ہم دیں گے، سفارش کر ہم قبول کریں گے۔ میں عرض کروں گا: مالک میرے! امت میری، امت میری۔ حکم ہوگا، جا اور جس کے دل میں گیہوں یا جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو نکال لے دوزخ سے، میں ایسے سب لوگوں کو نکال لوں گا اور پھر مالک کے پاس آ کر ویسی ہی تعریفیں کروں گا پھر سجدہ میں گر پڑوں گا۔ حکم ہو گا: اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ جو کہنا ہے۔ تیری بات سنی جائے گی، مانگ جو مانگتا ہے ملے گا، سفارش کر تیری سفارش قبول ہوگی۔ میں عرض کروں گا: مالک میرے! امت میری، امت میری (یعنی اپنی امت کی بخشش چاہتا ہوں) حکم ہو گا جا اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے میں ایسا ہی کروں گا۔ اور پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس آؤں گا اور ایسی ہی تعریفیں کروں گا۔ اور سجدے میں گر پڑوں گا۔ حکم ہو گا، اے محمد! اپنا سر اٹھا اور کہہ ہم سنیں گے، مانگ ہم دیں گے، سفارش کر ہم قبول کریں گے۔ میں عرض کروں گا: اے مالک میرے! میری امت، میری امت۔ حکم ہو گا، جا اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کم، بہت کم، بہت ہی کم ایمان ہو اس کو جہنم سے نکال لے۔ میں جا کر ایسا ہی کروں گا۔ معبد بن ہلال نے کہا: یہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو انہوں نے ہم سے بیان کی، پھر ہم ان کے پاس سے نکلے جب جبان (قبرستان) کی بلندی پر پہنچے تو ہم نے کہا: کاش! ہم حسن (بصری) کی طرف چلیں اور ان کو سلام کریں۔ اور وہ ابوخلیفہ کے گھر میں چھپے ہوئے تھے (حجاج بن یوسف ظالم کے ڈر سے) خیر ہم ان کے پاس گئے اور ان کو سلام کیا، ہم نے کہا: اے ابو سعید! ہم تمہارے بھائی ابوحمزہ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) کے پاس سے آ رہے ہیں، انہوں نے شفاعت کے باب میں ایک حدیث ہم سے بیان کی، ویسی حدیث ہم نے نہیں سنی، انہوں نے کہا: ہاں بیان کرو۔ ہم نے وہ حدیث ان سے بیان کی۔ انہوں نے کہا: اور بیان کرو۔ ہم نے کہا: بس اس سے زیادہ انہوں نے بیان نہیں کی۔ انہوں نے کہا: یہ حدیث تو انہوں نے ہم سے بیس برس پہلے بیان کی تھی جب وہ توانا تھے (یعنی بوڑھے نہ تھے جیسے اب ہیں) اب انہوں نے کچھ چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا وہ بھول گئے یا تم سے بیان کرنا مناسب نہ جانا ایسا نہ ہو تم بھروسہ کر بیٹھو اور نیک اعمال میں سستی کرنے لگو، ہم نے ان سے کہا وہ کیا ہے؟ ہم سے بیان کرو یہ سن کر ہنسے اور کہا: انسان کی پیدائش میں جلدی ہے، میں نے تم سے یہ قصہ اس لئے ذکر کیا تھا کہ میں تم سے بیان کروں اس ٹکڑے کو (جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے چھوڑ دیا یعنی تم جلدی کر کے درخواست کر بیٹھے بیان کرنے کی اگر درخواست نہ کرتے تب بھی بیان کرتا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پھر لوٹوں گا اپنے پروردگار کے پاس چوتھی بار اسی طرح تعریف توصیف کروں گا پھر سجدے میں گروں گا مجھ کو حکم ہو گا، اے محمد! سر اٹھاؤ اور کہو ہم سنیں گے، مانگو ہم دیں گے۔ سفارش کرو ہم قبول کریں گے۔ اس وقت میں عرض کروں گا مالک میرے! مجھ کو اجازت دے اس شخص کو بھی جہنم سے نکالنے کی جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو (یعنی صرف توحید پر یقین رکھتا ہو) اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ تمہارا کام نہیں لیکن قسم ہے میری عزت اور بزرگی اور جاہ و جلال کی میں جہنم سے نکالوں گا اس شخص کو جس نے «لا اله الا الله» کہا ہو۔ معبد نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ حسن نے یہ حدیث ہم سے بیان کی کہا کہ انہوں نے اس کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے میں سمجھتا ہوں یوں کہا: بیس برس سے پہلے جب وہ زوردار تھے (یعنی ان کا حافظہ اچھا تھا بدن میں طاقت تھی)۔

صحيح مسلم # 479
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp