وحدثني هارون بن سعيد الايلي ، حدثنا ابن وهب ، قال: اخبرني مالك بن انس ، عن عمرو بن يحيى بن عمارة ، قال: حدثني ابي ، عن ابي سعيد الخدري ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " يدخل الله اهل الجنة الجنة، يدخل من يشاء برحمته، ويدخل اهل النار النار، ثم يقول: انظروا، من وجدتم في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان فاخرجوه، فيخرجون منها حمما قد امتحشوا، فيلقون في نهر الحياة او الحيا، فينبتون فيه كما تنبت الحبة إلى جانب السيل، الم تروها كيف تخرج صفراء ملتوية؟ "،
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جنت والوں کو جنت میں لے جائے گا، جس کو چاہے گا، اپنی رحمت سے اور دوزخ والوں کو دوزخ میں لے جائے گا۔ پھر فرمائے گا: دیکھو جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو وہ لوگ نکلیں گے کوئلہ کی طرح جلے ہوئے، پھر ڈالے جائیں گے نہرالحیات یا نہرالحیا میں (یہ شک ہے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا جو راوی ہیں اس حدیث کے اور دوسروں کی روایت میں نہرالحیات ہے بغیر شک کے) اور ایسا اگیں گے جیسے دانہ بھیا (بہاؤ) کے طرف اگ آتا ہے کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا کیسا زرد لپٹا ہوا اگتا ہے۔“