حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابو معاوية ، حدثنا الاعمش ، عن عمرو بن مرة ، عن ابي عبيدة ، عن ابي موسى ، قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بخمس كلمات، فقال: " إن الله عز وجل، لا ينام، ولا ينبغي له ان ينام، يخفض القسط ويرفعه، يرفع إليه عمل الليل قبل عمل النهار، وعمل النهار قبل عمل الليل، حجابه النور "، وفي رواية ابي بكر: النار لو كشفه لاحرقت سبحات وجهه، ما انتهى إليه بصره من خلقه، وفي رواية ابي بكر، عن الاعمش: ولم يقل.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو کھڑے ہو کر پانچ باتیں سنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ جل جلالہ نہیں سوتا اور سونا اس کے لائق نہیں (کیونکہ عضلات اور اعضائے بدن کی تھکاوٹ سے ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پاک ہے تھکن سے۔ دوسرے یہ کہ سونا غفلت ہے اور مثل موت کے ہے اور حق تعالیٰ پاک ہے اس سے) جھکاتا ہے ترازو کو اور اونچا کرتا ہے اس کو۔ اٹھایا جاتا ہے، اس کی طرف رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے، اس کا پردہ نور ہے۔“ ابوبکر کی روایت میں ہے کہ ”پردہ وہ اس کا آگ ہے اور اگر وہ کھول دے اس پردے کو البتہ اس کے منہ کی شعاعیں جلائیں مخلوق کو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔“