كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

وحدثنا وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابو اسامة ، حدثنا زكرياء ، عن ابن اشوع ، عن عامر ، عن مسروق ، قال: قلت لعائشة : فاين قوله ثم دنا فتدلى {8} فكان قاب قوسين او ادنى {9} فاوحى إلى عبده ما اوحى {10} سورة النجم آية 8-10؟ قالت: " إنما ذاك جبريل عليه السلام، كان ياتيه في صورة الرجال، وإنه اتاه في هذه المرة في صورته، التي هي صورته، فسد افق السماء ".

‏‏‏‏ مسروق سے روایت ہے، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا، (آپ تو کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو نہیں دیکھا) پھر اللہ تعالیٰ کا یہ قول کیسے ہے: «‏‏‏‏ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى» انہوں نے کہا: اس آیت سے تو جبریل علیہ السلام مراد ہیں۔ وہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مردوں کی صورت میں آتے تھے، اور اس مرتبہ خاص اپنی صورت میں آئے، تو سارا کنارہ آسمان کا بھر گیا تھا۔

صحيح مسلم # 442
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp