كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثني زهير بن حرب ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، عن داود ، عن الشعبي ، عن مسروق ، قال: كنت متكئا عند عائشة ، فقالت: يا ابا عائشة، ثلاث من تكلم بواحدة منهن، فقد اعظم على الله الفرية، قلت: ما هن؟ قالت: من زعم ان محمدا صلى الله عليه وسلم راى ربه، فقد اعظم على الله الفرية، قال: وكنت متكئا فجلست، فقلت: يا ام المؤمنين، انظريني ولا تعجليني، الم يقل الله عز وجل: ولقد رآه بالافق المبين سورة التكوير آية 23، ولقد رآه نزلة اخرى سورة النجم آية 13، فقالت: انا اول هذه الامة، سال عن ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " إنما هو جبريل، لم اره على صورته التي خلق عليها، غير هاتين المرتين، رايته منهبطا من السماء، سادا عظم خلقه ما بين السماء إلى الارض "، فقالت: اولم تسمع ان الله يقول: لا تدركه الابصار وهو يدرك الابصار وهو اللطيف الخبير سورة الانعام آية 103؟ اولم تسمع ان الله يقول: وما كان لبشر ان يكلمه الله إلا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولا فيوحي بإذنه ما يشاء إنه علي حكيم سورة الشورى آية 51؟ قالت: ومن زعم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، كتم شيئا من كتاب الله، فقد اعظم على الله الفرية، والله يقول: يايها الرسول بلغ ما انزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته سورة المائدة آية 67، قالت: ومن زعم، انه يخبر بما يكون في غد، فقد اعظم على الله الفرية، والله يقول: قل لا يعلم من في السموات والارض الغيب إلا الله سورة النمل آية 65،

‏‏‏‏ مسروق سے روایت ہے، میں تکیہ لگائے ہوئے تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس۔ انہوں نے کہا: اے ابوعائشہ (یہ کنیت ہے مسروق کی) کہ تین باتیں ہیں جو کوئی ان کا قائل ہو اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر۔ میں نے کہا: وہ تین باتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا: (ایک یہ ہے) جو کوئی سمجھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر۔ مسروق نے کہا: میں تکیہ لگائے تھا یہ سن کر میں بیٹھ گیا اور میں نے کہا: اے ام المؤمنین! ذرا مجھے بات کرنے دیں اور جلدی مت کریں، کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ٭ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى» سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مراد ان آیتوں میں جبریل علیہ السلام ہیں۔ میں نے ان کو ان کی اصلی صورت پر نہیں دیکھا۔ سوائے دو بار کے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے میں نے دیکھا، ان کو وہ اتر رہے تھے آسمان سے اور ان کے تن و توش کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک روک دیا تھا۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تو نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ» کیا تو نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ» تک (دوسری یہ ہے) کہ جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر۔ اللہ فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ» یعنی اے پیغام پہنچانے والے! پہنچا دے جو اترا تجھ پر تیرے رب کے پاس سے اور جو ایسا نہ کرے تو تو نے پیغام نہیں پہنچایا (تیسری یہ ہے) جو کوئی کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کل ہونے والی بات جانتے تھے (یعنی آئندہ کا حال) تو اس نے بڑا جھوٹ باندھا اللہ پر ... اللہ خود فرماتا ہے: «قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ» (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !) آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کی بات نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔

صحيح مسلم # 439
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp