حدثنا محمد بن إسحاق المسيبي ، حدثنا انس يعني ابن عياض ، عن موسى وهو ابن عقبة ، عن نافع ، قال: قال عبد الله بن عمر ، ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بين ظهراني الناس المسيح الدجال، فقال: إن الله تبارك وتعالى ليس باعور، الا إن المسيح الدجال اعور عين اليمنى، كان عينه عنبة طافية، قال: وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اراني الليلة في المنام عند الكعبة، فإذا رجل آدم كاحسن ما ترى من ادم الرجال، تضرب لمته بين منكبيه، رجل الشعر يقطر راسه ماء، واضعا يديه على منكبي رجلين، وهو بينهما يطوف بالبيت، فقلت: من هذا؟ فقالوا: المسيح ابن مريم، ورايت وراءه رجلا جعدا قططا، اعور عين اليمنى، كاشبه من رايت من الناس بابن قطن، واضعا يديه على منكبي رجلين يطوف بالبيت، فقلت: من هذا؟ قالوا: هذا المسيح الدجال ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے بیچ میں مسیح دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: ”اللہ جل شانہ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال کانا ہے داہنی آنکھ کا، اس کی کانی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور“ (پس یہی ایک کھلی نشانی ہے اس بات کی کہ وہ مردود جھوٹا ہے خدائی کے دعوے میں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک رات خواب میں میں نے اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا ایک شخص گیہوں رنگ جیسے بہت اچھا کوئی گیہوں رنگ کا آدمی اس کے پٹھے مونڈھوں تک تھے اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی سر میں سے پانی ٹپک رہا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے مونڈھوں پر رکھے ہوئے طواف کر رہا تھا خانہ کعبہ کا، میں نے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مسیح ہیں مریم علیہا السلام کے بیٹے اور ان کے پیچھے میں نے اور ایک شخص کو دیکھا جو سخت گھونگر بال والا داہنی آنکھ کا کانا تھا میں نے جو لوگ دیکھے ہیں ان سب میں ابن قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے وہ بھی اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے مونڈھوں پر رکھے طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ مسیح دجال ہے۔“