وحدثنا عبد بن حميد ، اخبرنا يونس بن محمد ، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن ، عن قتادة ، عن ابي العالية ، حدثنا ابن عم نبيكم صلى الله عليه وسلم، ابن عباس ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مررت ليلة اسري بي على موسى بن عمران عليه السلام، رجل آدم طوال جعد، كانه من رجال شنوءة، ورايت عيسى ابن مريم مربوع الخلق إلى الحمرة، والبياض سبط الراس، واري مالكا خازن النار، والدجال في آيات اراهن الله إياه، فلا تكن في مرية من لقائه "، قال: كان قتادة يفسرها، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قد لقي موسى عليه السلام.
قتادہ سے روایت ہے، اس نے سنا ابوالعالیہ سے، انہوں نے کہا: حدیث بیان کی ہم سے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس رات مجھے معراج ہوا میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام پر گزرا۔ وہ ایک گندمی رنگ کے لمبے آدمی تھے، گھونگریالے بال والے جیسے شنوءہ کے آدمی ہوتے ہیں اور میں نے دیکھا عیسٰی بن مریم علیہ السلام کو وہ میانہ قد تھے اور رنگ ان کا سرخ اور سفید تھا اور بال ان کے «سبط» چھٹے ہوئے تھے۔“ اور دکھلائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک، جہنم کے داروغہ اور دجال ان نشانیوں میں جو اللہ نے دکھلائیں ”تو مت شک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات میں موسٰی علیہ السلام سے۔“ راوی نے کہا کہ قتادہ اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موسٰی علیہ السلام سے ملاقات کی۔