كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا ابن ابي عدي ، عن سعيد ، عن قتادة ، عن انس بن مالك لعله، قال: عن مالك بن صعصعة رجل من قومه، قال: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: " بينا انا عند البيت بين النائم واليقظان، إذ سمعت قائلا، يقول: احد الثلاثة بين الرجلين، فاتيت فانطلق بي، فاتيت بطست من ذهب فيها من ماء زمزم، فشرح صدري إلى كذا وكذا، قال قتادة: فقلت للذي معي: ما يعني؟ قال: إلى اسفل بطنه، فاستخرج قلبي، فغسل بماء زمزم، ثم اعيد مكانه، ثم حشي إيمانا وحكمة، ثم اتيت بدابة ابيض، يقال له: البراق فوق الحمار ودون البغل، يقع خطوه عند اقصى طرفه، فحملت عليه، ثم انطلقنا حتى اتينا السماء الدنيا، فاستفتح جبريل عليه السلام، فقيل: من هذا؟ قال: جبريل، قيل: ومن معك؟ قال: محمد صلى الله عليه وسلم، قيل: وقد بعث إليه؟ قال: نعم، قال: ففتح لنا، وقال: مرحبا به ولنعم المجيء جاء، قال: فاتينا على آدم عليه السلام، وساق الحديث بقصته، وذكر انه لقي في السماء الثانية عيسى ويحيى عليها السلام، وفي الثالثة يوسف، وفي الرابعة إدريس، وفي الخامسة هارون، صلوات الله عليهم، قال: ثم انطلقنا حتى انتهينا إلى السماء السادسة، فاتيت على موسى عليه السلام، فسلمت عليه، فقال: مرحبا بالاخ الصالح، والنبي الصالح، فلما جاوزته بكى، فنودي ما يبكيك، قال: رب، هذا غلام بعثته بعدي يدخل من امته الجنة اكثر مما يدخل من امتي، قال: ثم انطلقنا حتى انتهينا إلى السماء السابعة، فاتيت على إبراهيم، وقال في الحديث: وحدث نبي الله صلى الله عليه وسلم، انه راى اربعة انهار يخرج من اصلها نهران ظاهران، ونهران باطنان، فقلت: يا جبريل، ما هذه الانهار؟ قال: اما النهران الباطنان فنهران في الجنة، واما الظاهران فالنيل والفرات، ثم رفع لي البيت المعمور، فقلت: يا جبريل، ما هذا؟ قال: هذا البيت المعمور، يدخله كل يوم سبعون الف ملك، إذا خرجوا منه لم يعودوا فيه آخر ما عليهم، ثم اتيت بإناءين احدهما خمر والآخر لبن، فعرضا علي فاخترت اللبن، فقيل: اصبت، اصاب الله بك امتك على الفطرة، ثم فرضت علي كل يوم خمسون صلاة "، ثم ذكر قصتها إلى آخر الحديث.

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے شاید سنا مالک بن صعصعہ سے جو ایک شخص تھے ان کی قوم سے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: میں خانہ کعبہ کے پاس تھا۔ اور میری حالت خواب اور بیداری کے بیچ میں تھی اتنے میں میں نے سنا ایک شخص کو جو کہتا تھا کہ ہم دونوں میں سے تیسرے یہ ہیں یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر میرے پاس آئے اور مجھ کو لے گئے۔ پھر میرے پاس ایک طشت لایا گیا سونے کا اس میں پانی تھا زمزم کا اور میرا سینہ چیرا گیا یہاں تک اور یہاں تک قتادہ نے کہا (جو راوی ہے اس حدیث کا) میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: اس سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یعنی چیرا گیا پیٹ کے نیچے تک اور دل نکالا گیا اس میں سے پھر ایک جانور کو لائے، جس کا رنگ سفید تھا، اس کو براق کہتے تھے گدھے سے اونچا اور خچر سے نیچا وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی تھی۔ مجھ کو اس پر سوار کیا پھر ہم چلے یہاں تک کہ پہلے آسمان پر آئے، جبرائیل علیہ السلام نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا: کون ہے؟ کہا: جبرائیل، کہا تمہارے ساتھ کون ہے، کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کہا انہوں نے: کیا بلوائے گئے ہیں وہ؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ہاں پھر دروازہ کھلا اور فرشتوں نے کہا: مرحبا مبارک ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشریف لانا پھر ہم آئے آدم علیہ السلام کے پاس اور بیان کیا کہ حدیث کا پورا قصہ اور ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے آسمان پر ملاقات کی عیسٰی علیہ السلام اور یحییٰ علیہ السلام سے اور تیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے پانچویں آسمان پر ہارون علیہ السلام سے پھر کہا: کہ ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان پر پہنچے۔ وہاں موسیٰ علیہ السلام سے ملے ان کو میں نے سلام کیا۔ انہوں نے کہا مرحبا نیک بھائی اور نیک نبی کو جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، آواز آئی اے موسیٰ کیوں روتے ہو، انہوں نے کہا: اے پروردگار! اس لڑکے کو تو نے میرے بعد پیغمبر بنایا اور اس کی امت میں سے جنت میں زیادہ لوگ جائیں گے میری امت سے (تو موسیٰ علیہ السلام کو رنج ہوا اپنی قوم پر حالانکہ ان کی تعداد بہت تھی، مگر جنتی ان میں سے کم تھے ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم چلے یہاں تک کہ ساتویں آسمان پر پہنچے، وہاں میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا اور بیان کیا اس حدیث میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے چار نہریں دیکھیں جو سدرۃ کی جڑ سے نکلتی تھی دو نہریں کھلی تھیں اور دو نہریں ڈھانپی تھیں میں نے کہا: اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا: ڈھانپی ہوئی دو نہریں تو جنت میں گئی ہیں۔ اور کھلی ہوئیں نیل و فرات ہیں۔ پھر اٹھایا گیا میرے لیے بیت المعمور میں نے کہا اے جبرائیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: بیت المعمور ہے۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں جو پھر کبھی اس میں نہیں آتے پس یہی ان کا اخیر آتا ہے پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ، دونوں میرے سامنے کئے گئے میں نے دودھ کو پسند کیا، آواز آئی ٹھیک کیا تم نے، اللہ تمہیں ٹھیک راستے پر لایا اور تمہاری امت بھی تمہارے راستے پر چلے گی پھر میرے اوپر پچاس نمازیں فرض ہوئیں ہر روز۔ پھر بیان کیا سارا قصہ اخیر تک۔

صحيح مسلم # 416
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp