كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا حماد بن سلمة ، حدثنا ثابت البناني ، عن انس بن مالك ، " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، اتاه جبريل عليه السلام وهو يلعب مع الغلمان، فاخذه فصرعه، فشق عن قلبه، فاستخرج القلب، فاستخرج منه علقة، فقال: هذا حظ الشيطان منك، ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم، ثم لامه، ثم اعاده في مكانه، وجاء الغلمان يسعون إلى امه يعني ظئره، فقالوا: إن محمدا قد قتل، فاستقبلوه وهو منتقع اللون، قال انس: وقد كنت ارى اثر ذلك المخيط في صدره "

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا اور پچھاڑا اور دل کو چیر کر نکالا، پھر اس میں سے ایک پھٹکی جدا کر ڈالی اور کہا کہ اتنا حصہ شیطان کا تھا تم میں، پھر اس دل کو دھویا سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے (اس سے یہ نہیں نکلتا کہ ہم کو سونے کے برتن کا استعمال درست ہے۔ کیونکہ یہ فرشتوں کا فعل تھا اور ممکن ہے کہ ان کی شریعت ہماری شریعت کے مغائر ہو۔ دوسرے یہ کہ اس وقت تک سونے کا استعمال حرام نہیں ہوا تھا) پھر جوڑا اس کو اور اپنی جگہ میں رکھا اور لڑکے دوڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں کے پاس آئے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انا کے پاس اور کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مار ڈالے گئے۔ یہ سن کر لوگ دوڑے دیکھا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحیح اور سالم ہیں اور) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل گیا ہے (ڈر خوف سے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس سلائی کا (جو جبرئیل علیہ السلام نے کی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ پر نشان دیکھا تھا۔

صحيح مسلم # 413
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp