كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

وحدثني ابو الطاهر ، اخبرنا ابن وهب ، قال: حدثني يونس ، قال: قال ابن شهاب ، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن ، ان جابر بن عبد الله الانصاري وكان من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان يحدث، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يحدث عن فترة الوحي، قال في حديثه: " فبينا انا امشي، سمعت صوتا من السماء، فرفعت راسي، فإذا الملك الذي جاءني بحراء، جالسا على كرسي بين السماء والارض، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " فجئثت منه فرقا، فرجعت، فقلت: زملوني، زملوني، فدثروني، فانزل الله تبارك وتعالى يايها المدثر {1} قم فانذر {2} وربك فكبر {3} وثيابك فطهر {4} والرجز فاهجر {5} سورة المدثر آية 1-5، وهي الاوثان، قال: ثم تتابع الوحي ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ صحابہ میں سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذکر کرتے تھے وحی موقوف ہو جانے کا: ایک بار میں جا رہا تھا، میں نے آسمان سے آواز سنی تو میں نے سر اٹھایا دیکھا تو وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا ایک کرسی پر بیٹھا ہے، آسمان اور زمین کے بیچ میں، یہ دیکھ کر میں سہم گیا ڈر کے مارے اور لوٹ کر گھر میں آیا، میں نے کہا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ انہوں نے کپڑا اوڑھا دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ سورت اتاری: «يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ» یعنی اے کپڑا اوڑھنے والے اٹھ اور ذرا لوگوں کو ڈرا اور اپنے مالک کی بڑائی کر اور اپنے کپڑوں کو پاک کر اور پلیدی چھوڑ دے۔ پلیدی سے مراد بت ہیں پھر وحی برابر آنے لگی۔

صحيح مسلم # 406
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp