كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثني ابو الطاهر احمد بن عمرو بن عبد الله بن عمرو بن سرح ، اخبرنا ابن وهب ، قال: اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: حدثني عروة بن الزبير ، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته انها، قالت: " كان اول ما بدئ به رسول الله صلى الله عليه وسلم من الوحي، الرؤيا الصادقة في النوم، فكان لا يرى رؤيا إلا جاءت مثل فلق الصبح، ثم حبب إليه الخلاء، فكان يخل وبغار حراء يتحنث فيه، وهو التعبد الليالي اولات العدد، قبل ان يرجع إلى اهله ويتزود لذلك، ثم يرجع إلى خديجة فيتزود لمثلها حتى فجئه الحق وهو في غار حراء فجاءه الملك، فقال: اقرا، قال: ما انا بقارئ، قال: فاخذني، فغطني حتى بلغ مني الجهد، ثم ارسلني، فقال: اقرا، قال: قلت: ما انا بقارئ، قال: فاخذني، فغطني الثانية، حتى بلغ مني الجهد، ثم ارسلني، فقال: اقرا، فقلت: ما انا بقارئ، فاخذني فغطني الثالثة، حتى بلغ مني الجهد، ثم ارسلني، فقال: اقرا باسم ربك الذي خلق {1} خلق الإنسان من علق {2} اقرا وربك الاكرم {3} الذي علم بالقلم {4} علم الإنسان ما لم يعلم {5} سورة العلق آية 1-5 فرجع بها رسول الله صلى الله عليه وسلم، ترجف بوادره حتى دخل على خديجة، فقال: زملوني، زملوني، فزملوه حتى ذهب عنه الروع، ثم قال لخديجة: اي خديجة: ما لي، واخبرها الخبر "، قال: لقد خشيت على نفسي، قالت له خديجة: كلا ابشر، فوالله لا يخزيك الله ابدا، والله إنك لتصل الرحم، وتصدق الحديث، وتحمل الكل، وتكسب المعدوم، وتقري الضيف، وتعين على نوائب الحق، فانطلقت به خديجة، حتى اتت به ورقة بن نوفل بن اسد ابن عبد العزى وهو ابن عم خديجة اخي ابيها، وكان امرا تنصر في الجاهلية، وكان يكتب الكتاب العربي ويكتب من الإنجيل بالعربية ما شاء الله ان يكتب، وكان شيخا كبيرا قد عمي، فقالت له خديجة: اي عم، اسمع من ابن اخيك، قال ورقة بن نوفل: يا ابن اخي، ماذا ترى؟ فاخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم خبر ما رآه، فقال له ورقة: هذا الناموس الذي انزل على موسى عليه السلام، يا ليتني فيها جذعا، يا ليتني اكون حيا حين يخرجك قومك، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: او مخرجي هم، قال ورقة: نعم، لم يات رجل قط بما جئت به إلا عودي، وإن يدركني يومك انصرك نصرا مؤزرا.

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہونے لگا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح نمودار ہوتا۔ پھر آپ کو تنہائی کا شوق ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرا کے غار میں اکیلے تشریف رکھتے۔ وہاں عبادت کیا کرتے کئی راتوں تک اور گھر میں نہ آتے۔ اتنا توشہ ساتھ لے جاتے، پھر ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹ کر آتے وہ اور توشہ اتنا ہی تیار کر دیتیں یہاں تک کہ اچانک آپ پر وحی اتری (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی توقع نہ تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حرا کے غار میں تھے، کہ فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس فرشتے نے مجھے پکڑ کر دبوچا اتنا کہ وہ تھک گیا یا میں تھک گیا۔ پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: پڑھ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ۔ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھ کو پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا: «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ» یعنی پڑھ اپنے مالک کا نام لے کر جس نے پیدا کیا۔ پیدا کیا آدمی کو خون کی پھٹکی سے۔ پڑھ اور تیرا مالک بڑی عزت والا ہے، جس نے سکھلایا قلم سے، سکھلایا آدمی کو وہ جو نہیں جانتا تھا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے اور گردن کے بیچ کا گوشت پھڑک رہا تھا۔ (ڈر اور خوف سے چونکہ یہ وحی کا پہلا مرتبہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عادت نہ تھی، اس واسطے ہیبت چھا گئی) یہاں تک کہ پہنچے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ڈھانپ دو، ڈھانپ دو (کپڑوں سے) انہوں نے ڈھانپ دیا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا اس وقت اپنی بی بی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا اور سب حال بیان کیا کہا: مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں آپ خوش ہو جائیے۔ قسم اللہ کی! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا یا کبھی رنجیدہ نہ کرے گا، آپ اللہ کی قسم ناتے کو جوڑتے ہیں، سچ بولتے ہیں، بوجھ اٹھاتے ہیں (یعنی عیال اور اطفال اور یتیم اور مسکین کا خیال رکھتے ہیں۔ ان کا بار اٹھاتے ہیں) اور نادار کیلئے کمائی کرتے ہیں، اور خاطر داری کرتے ہیں مہمان کی اور سچی آفتوں میں (جیسے کوئی قرض دار ہو گیا یا مفلس ہو گیا یا اور کوئی تباہی آئی) مدد کرتے ہیں لوگوں کی۔ پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا زاد بھائی تھے (کیونکہ ورقہ، نوفل کے بیٹے تھے اور نوفل، اسد کے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خویلد کی بیٹی تھیں اور خویلد، اسد کے بیٹے تھے تو ورقہ اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے باپ بھائی بھائی تھے) اور جاہلیت کے زمانے میں وہ نصرانی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے تو انجیل کو عربی میں لکھتے تھے جتنا اللہ کو منظور تھا۔ اور بہت بوڑھے تھے۔ ان کی بینائی جاتی رہی تھی (بڑھاپے کی وجہ سے) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے چچا! (وہ چچا کے بیٹے تھے مگر بزرگی کیلئے ان کو چچا کہا اور ایک روایت میں چچا کے بیٹے ہیں) اپنے بھتیجے کی بات سنو۔ ورقہ نے کہا: اے بھتیجے میرے! تم کیا دیکھتے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیفیت دیکھی تھی۔ سب بیان کی۔ ورقہ نے کہا یہ تو وہ ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔ کاش میں اس زمانہ میں جوان ہوتا کاش میں زندہ رہتا اس وقت تک جب تمہاری قوم تم کو نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے۔ ورقہ نے کہا: ہاں جب کوئی شخص دنیا میں وہ لے کر آیا جس کو تم لائے ہو (یعنی شریعت اور دین) تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے اور جو میں اس دن کو پاؤں گا تو اچھی طرح تمہاری مدد کروں گا۔

صحيح مسلم # 403
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp