وحدثناه عبد الاعلى بن حماد وابو بكر بن ابي شيبة وزهير بن حرب ، قالوا: حدثنا سفيان بن عيينة . ح وحدثنيه حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، قال: حدثني يونس . ح وحدثنا حسن الحلواني وعبد بن حميد ، عن يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح كلهم، عن الزهري ، بهذا الإسناد، وفي رواية ابن عيينة: إماما مقسطا وحكما عدلا، وفي رواية يونس: حكما عادلا، ولم يذكر: إماما مقسطا، وفي حديث صالح: حكما مقسطا، كما قال الليث وفي حديثه من الزيادة: وحتى تكون السجدة الواحدة خيرا من الدنيا وما فيها، يقول ابو هريرة: اقرءوا إن شئتم وإن من اهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته سورة النساء آية 159 الآية.
زہری سے دوسری روایتیں بھی ایسی ہی ہیں ابن عینیہ کی روایت میں ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام امام ہوں گے، انصاف کرنے والے اور حاکم ہوں گے عدل کرنے والے، اور یونس کی روایت میں ہے کہ حاکم ہوں گے عدل کرنے والے۔ اور اس میں یہ نہیں ہے کہ امام ہوں گے انصاف کرنے والے، جیسے لیث کی روایت میں ہے اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ایک سجدہ اس زمانے میں ساری دنیا سے بہتر ہو گا۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھو «وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ» ”کوئی ایسا نہیں اہل کتاب میں سے جو ایمان نہ لائے عیسیٰ علیہ السلام پر ان کے مرنے سے پہلے“۔