حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا هشيم ، عن صالح بن صالح الهمداني ، عن الشعبي ، قال: رايت رجلا من اهل خراسان، سال الشعبي، فقال: يا ابا عمرو، إن من قبلنا من اهل خراسان، يقولون في الرجل إذا اعتق امته، ثم تزوجها فهو كالراكب بدنته، فقال الشعبي: حدثني ابو بردة بن ابي موسى ، عن ابيه ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ثلاثة يؤتون اجرهم مرتين، رجل من اهل الكتاب آمن بنبيه، وادرك النبي صلى الله عليه وسلم فآمن به، واتبعه، وصدقه فله اجران، وعبد مملوك ادى حق الله تعالى، وحق سيده فله اجران، ورجل كانت له امة فغذاها فاحسن غذاءها، ثم ادبها فاحسن ادبها، ثم اعتقها وتزوجها، فله اجران "، ثم قال الشعبي للخراساني: خذ هذا الحديث بغير شيء، فقد كان الرجل يرحل فيما دون هذا إلى المدينة.
ایک شخص نے جو خراسان کا رہنے والا تھا شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا: ہمارے ملک کے لوگ کہتے ہیں جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے نکاح کر لے تو اس کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کوئی ہدی کے جانور پر سواری کرے۔ شعبی رحمہ اللہ نے کہا: مجھ سے بیان کیا ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے، انہوں نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کو دوہرا ثواب ملے گا۔ ایک تو اس شخص کو جو اہل کتاب میں سے ہو (یعنی یہودی یا نصرانی) ایمان لایا ہو اپنے پیغمبر پر، پھر میرا زمانہ پائے اور مجھ پر بھی ایمان لائے اور میری پیروی کرے اور مجھ کو سچا جانے تو اس کو دوہرا ثواب ہے اور ایک اس غلام کو جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا بھی اس کو دوہرا ثواب ہے اور ایک اس شخص کو جس کے پاس لونڈی ہو پھر اچھی طرح اس کو کھلائے اور پلائے بعد اس کے کہ اچھی طرح تعلیم اور تربیت کرے پھر اس کو آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے تو اس کو بھی دوہرا ثواب ہے۔“ پھر شعبی رحمہ اللہ نے خراسانی سے کہا: تو یہ حدیث لے لے بے محنت کے، نہیں تو ایک شخص اس سے چھوٹی حدیث کے لئے مدینے تک سفر کیا کرتا تھا۔