حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن عبد الله بن نمير ، وابو كريب ، اللفظ لابي كريب، قالوا: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن شقيق ، عن حذيفة ، قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: احصوا لي كم يلفظ الإسلام؟ قال: فقلنا: يا رسول الله، اتخاف علينا ونحن ما بين الست مائة إلى السبع مائة؟ قال: " إنكم لا تدرون لعلكم ان تبتلوا، قال: فابتلينا حتى جعل الرجل منا لا يصلي إلا سرا ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گنو کتنے آدمی اسلام کے قائل ہیں۔“ پھر ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ ڈرتے ہیں ہم پر (کوئی آفت آنے سے دشمنوں کی وجہ سے) اور ہم چھ سو آدمیوں سے لے کر سات سو تک ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نہیں جانتے شاید بلا میں پڑ جاوَ۔“ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ایسا ہی ہوا ہم بلا میں پڑ گئے، یہاں تک کہ بعض ہم میں سے نماز بھی چپکے سے پڑھتے۔