حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابو خالد يعني سليمان بن حيان ، عن سعد بن طارق ، عن ربعي ، عن حذيفة، قال: كنا عند عمر، فقال: ايكم سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الفتن؟ فقال قوم: نحن سمعناه، فقال: لعلكم تعنون فتنة الرجل في اهله وجاره؟ قالوا: اجل، قال: تلك تكفرها، الصلاة، والصيام، والصدقة، ولكن ايكم سمع النبي صلى الله عليه وسلم يذكر الفتن، التي تموج موج البحر؟ قال حذيفة: فاسكت القوم، فقلت: انا، قال: انت لله ابوك، قال حذيفة : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " تعرض الفتن على القلوب كالحصير عودا عودا، فاي قلب اشربها نكت فيه نكتة سوداء، واي قلب انكرها نكت فيه نكتة بيضاء، حتى تصير على قلبين على ابيض مثل الصفا، فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والارض والآخر اسود مربادا كالكوز مجخيا، لا يعرف معروفا، ولا ينكر منكرا، إلا ما اشرب من هواه "، قال حذيفة وحدثته: ان بينك وبينها، بابا مغلقا يوشك ان يكسر، قال عمر: اكسرا، لا ابا لك، فلو انه فتح لعله كان يعاد؟ قلت: لا، بل يكسر، وحدثته ان ذلك الباب رجل يقتل او يموت حديثا ليس بالاغاليط، قال ابو خالد: فقلت لسعد: يا ابا مالك، ما اسود مربادا؟ قال: شدة البياض في سواد، قال: قلت: فما الكوز مجخيا؟ قال: منكوسا.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا: تم میں سے کس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا۔ بعض لوگوں نے کہا: ہاں ہم نے سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: شاید تم فتنوں سے وہ فتنے سمجھے ہو جو آدمی کو اس کے گھر بار اور مال اور ہمسائے میں ہوتے ہیں، انہوں نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان فتنوں کا کفارہ تو نماز اور روزے اور زکٰوۃ سے ہو جاتا ہے لیکن تم میں سے کسی نے سنا ہے۔ ان فتنوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دریا کی موجوں کی طرح امنڈ کر آئیں گے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سن کر سب لوگ چپ ہو رہے۔ میں نے کہا: میں نے سنا ہے عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سنا ہے تیرا باپ بہت اچھا تھا۔ کہا سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”فتنے دلوں پر ایسے آئیں گے کہ ایک کے بعد ایک، ایک کے بعد ایک جیسے بوریئے کی تیلیاں ایک کے بعد ایک ہوتی ہیں پھر جس دل میں وہ فتنہ رچ جائے گا تو اس میں ایک کالا داغ پیدا ہو گا اور جو دل اس کو نہ مانے گا اس میں ایک سفید نورانی دھبہ ہو گا۔ یہاں تک کہ اسی طرح کالے اور سفید دھبے ہوتے ہوتے دو قسم کے دل ہو جائیں گے ایک تو خالص سفید دل چکنے پتھر کی طرح جس کو کوئی فتنہ نقصان نہ پہنچائے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم رہیں۔ دوسرے کالا سفیدی مائل یا اوندھے کوزے کی طرح جو نہ کسی اچھی بات کو اچھی سمجھے گا، نہ بری بات کو بری مگر وہ جو اس کے دل میں بیٹھ جائے۔“ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ تمہارے اور فتنے کے بیچ میں ایک دروازہ ہے جو بند ہے مگر نزدیک ہے کہ وہ ٹوٹ جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ٹوٹ جائے گا۔ تیرا باپ نہیں۔ اگر کھل جاتا تو شاید پھر بند ہو جاتا۔ میں نے کہا: نہیں ٹوٹ جائے گا اور میں نے ان سے حدیث بیان کی یہ دروازہ ایک شخص ہے جو مارا جائے گا یا مر جائے گا۔ پھر یہ حدیث کوئی غلط (دل سے بنائی ہوئی بات) نہ تھی۔ ابوخالد نے کہا: میں نے سعد بن طارق سے پوچھا (جو اس حدیث راوی ہیں) «أَسْوَدُ مُرْبَادًّا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: سفیدی کی شدت سیاہی میں۔ میں نے کہا: «كَالْكُوزِ مُجَخِّيًا» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: کوزا اوندھا ہوا۔