حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، اخبرنا جرير ، عن منصور ، عن ابي وائل ، عن عبد الله ، قال: " من حلف على يمين، يستحق بها مالا، وهو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان "، ثم ذكر نحو حديث الاعمش، غير انه قال: كانت بيني وبين رجل خصومة في بئر، فاختصمنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: شاهداك او يمينه.
فرمایا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، جو شخص قسم کھائے ایک مال مارنے کیلئے اور وہ جھوٹا ہو اس میں تو اللہ جل جلالہ سے ملے گا غصے کی حالت میں (یعنی اللہ اس پر غصے ہو گا) پھر بیان کیا اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یوں ہے کہ میرے اور ایک شخص کے بیچ میں تکرار تھی۔ ایک کنویں میں ہم دونوں جھگڑا لے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے واسطے دو گواہ ہیں یا اس کی قسم ہے۔“