كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع . ح وحدثنا ابن نمير ، حدثنا ابو معاوية ووكيع . ح وحدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي واللفظ له، اخبرنا وكيع ، حدثنا الاعمش ، عن ابي وائل ، عن عبد الله ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من حلف على يمين صبر، يقتطع بها مال امرئ مسلم، هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان "، قال: فدخل الاشعث بن قيس ، فقال: ما يحدثكم ابو عبد الرحمن؟ قالوا: كذا وكذا، قال: صدق ابو عبد الرحمن، في نزلت كان بيني وبين رجل ارض باليمن، فخاصمته إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هل لك بينة، فقلت: لا، قال: فيمينه، قلت: إذن يحلف، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: " من حلف على يمين صبر، يقتطع بها مال امرئ مسلم، هو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان "، فنزلت إن الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا سورة آل عمران آية 77 إلى آخر الآية.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم کھائے حاکم کے حکم سے ایک مسلمان کا مال مارنے کیلئے اور وہ جھوٹا ہو تو ملے گا اللہ سے اور وہ اس پر غصے ہو گا۔ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی تو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ابوعبدالرحمٰن! (کنیت ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی) کیا حدیث بیان کرتے ہیں تم سے؟ لوگوں نے کہا: ایسی ایسی حدیث۔ سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، یہ میرے متعلق اتری، میری اور ایک شخص کی شرکت میں زمین تھی یمن میں، تو جھگڑا ہوا مجھ سے اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تیرے پاس گواہ ہے ہیں۔ میں نے عرض کیا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو پھر اس سے قسم لے لے۔ میں نے کہا: وہ تو قسم کھا لے گا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجبور ہو کر قسم کھا لے مسلمان کے مال مارنے کے لئے اور وہ جھوٹا ہو تو وہ اللہ سے ملے اور وہ غصے ہو گا اس پر۔ پھر یہ آیت اتری «إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا» (آل عمران:77) اخیر تک۔ یعنی جو لوگ اللہ کا عہد اور قسم دے کر ذرا سا مال خریدتے ہیں ان کو آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور اللہ ان سے بات نہ کرے گا اور ان کو پاک نہ کرے گا اور ان کی طرف نہ دیکھے گا اور ان کو دکھ کا عذاب ہو گا۔

صحيح مسلم # 355
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp