كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثني محمد بن منهال الضرير ، وامية بن بسطام العيشي ، واللفظ لامية، قالا: حدثنا يزيد بن زريع ، حدثنا روح وهو ابن القاسم ، عن العلاء ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: لما نزلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم لله ما في السموات وما في الارض وإن تبدوا ما في انفسكم او تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء والله على كل شيء قدير سورة البقرة آية 284، قال: فاشتد ذلك على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم بركوا على الركب، فقالوا: اي رسول الله كلفنا من الاعمال ما نطيق، الصلاة، والصيام، والجهاد، والصدقة، وقد انزلت عليك هذه الآية ولا نطيقها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اتريدون ان تقولوا كما قال اهل الكتابين من قبلكم: سمعنا وعصينا، بل قولوا: سمعنا واطعنا غفرانك ربنا، وإليك المصير، قالوا: سمعنا واطعنا غفرانك ربنا، وإليك المصير، فلما اقتراها القوم ذلت بها السنتهم، فانزل الله في إثرها آمن الرسول بما انزل إليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا نفرق بين احد من رسله وقالوا سمعنا واطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير سورة البقرة آية 285، فلما فعلوا ذلك، نسخها الله تعالى، فانزل الله عز وجل " لا يكلف الله نفسا إلا وسعها لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا او اخطانا سورة البقرة آية 286، قال: نعم، ربنا ولا تحمل علينا إصرا كما حملته على الذين من قبلنا سورة البقرة آية 286، قال: نعم، ربنا ولا تحملنا ما لا طاقة لنا به سورة البقرة آية 286، قال: نعم، واعف عنا واغفر لنا وارحمنا انت مولانا فانصرنا على القوم الكافرين سورة البقرة آية 286، قال: نعم ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت اتری «لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» (البقرة 284) اخیر تک یعنی اللہ ہی کا ہے جو کہ ہے آسمانوں اور زمین میں اور اگر تم کھول دو اپنے دل کی بات کو یا چھپاؤ اس کو، اللہ تعالیٰ حساب کرے گا اس کا تم سے پھر بخش دے گا جس کو چاہے گا اور عذاب کرے گا، جس کو چاہے گا اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ تو گراں گزری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم پر، اور وہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، پھر بیٹھ گئے گھٹنوں پر اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! ہم کو حکم ہوا ان کاموں کے کرنے کا جن کی ہمیں طاقت ہے جیسے نماز، روزہ، صدقہ، اب آپ پر یہ آیت اتری اور اس پر عمل کرنے کی ہم میں طاقت نہیں (یعنی اپنے دل پر ہمارا زور نہیں چلتا کہ برے شیطانی وسوسے بالکل نہ آنے پائیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو کہ ایسا کہو جیسے پہلے دونوں کتاب والوں (یہود و نصاریٰ) نے کہا (جب اللہ کا حکم سنا) «سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا» سنا ہم نے اور نافرمانی کی (یعنی ہم نے تیرا حکم سنا پر ہم اس پر عمل نہیں کریں گے) بلکہ یوں کہو «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» سنا ہم نے اور مان لیا۔ بخش دے ہم کو اے ہمارے مالک! تیری ہی طرف ہم کو جانا ہے۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» سنا ہم نے اور مان لیا، بخش دے ہم کو مالک ہمارے! تیری ہی طرف ہم کو جانا ہے۔ جب لوگوں نے یہ کہا اور اپنی زبانوں سے نکالا۔ اس کے بعد ہی یہ آیت اتری «آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ» ‏‏‏‏ (البقرة:285) اخیر تک یعنی ایمان لایا رسول اس پر جو اترا اس کی طرف اس کے مالک کے پاس سے اور ایمان لائے مومن بھی، سب ایمان لائے اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ہم ایسا نہیں کرتے کہ ایک رسول کو مانیں اور ایک کو نہ مانیں (جیسے یہود اور نصاریٰ نے کیا) اور کہا انہوں نے ہم نے سنا اور مان لیا، بخش دے ہم کو اے ہمارے مالک تیرے ہی پاس ہم کو جانا ہے۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے (اپنے فضل اور کرم سے) اس آیت کو (یعنی «وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ» کو) منسوخ کر دیا اور یہ آیت اتاری: «لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا» اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی طاقت کے موافق کسی کو اسی کی نیکیاں کام آئیں۔ اور اس پر اس کی برائیوں کا بوجھ ہو گا۔ اے ہمارے مالک! مت پکڑ ہم کو اگر ہم بھول یا چوک جائیں۔ مالک نے فرمایا: اچھا۔ «رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا» اے ہمارے مالک! مت لاد ہم پر ایسا بوجھ جیسے لادا تھا تو نے اگلوں پر (یہود پر پھر ان سے نہ ہو سکا۔ انہوں نے نافرمانی کی)۔ مالک نے فرمایا: اچھا۔ «رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ» مالک نے فرمایا: اچھا۔ «وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ» اور معاف کر دے ہماری خطائیں اور بخش دے ہم کو اور رحم کر ہم پر تو ہمارا مالک ہے مدد کر ہماری ان لوگوں پر جو کافر ہیں۔ پروردگار نے فرمایا: اچھا۔

صحيح مسلم # 329
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp