كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو خالد الاحمر . ح وحدثنا ابو كريب وإسحاق بن إبراهيم ، عن ابي معاوية كلاهما، عن الاعمش ، عن ابي ظبيان ، عن اسامة بن زيد ، وهذا حديث ابن ابي شيبة، قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية، فصبحنا الحرقات من جهينة، فادركت رجلا، فقال: لا إله إلا الله، فطعنته فوقع في نفسي من ذلك، فذكرته للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اقال: لا إله إلا الله، وقتلته؟ قال: قلت: يا رسول الله، إنما قالها خوفا من السلاح، قال: " افلا شققت عن قلبه، حتى تعلم اقالها ام لا؟ " فما زال يكررها علي حتى تمنيت اني اسلمت يومئذ، قال: فقال سعد: وانا والله لا اقتل مسلما حتى يقتله ذو البطين يعني اسامة، قال: قال رجل: الم يقل الله وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدين كله لله، فقال سعد: قد قاتلنا حتى لا تكون فتنة، وانت، واصحابك تريدون ان تقاتلوا حتى تكون فتنة.

‏‏‏‏ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں بھیجا (سریہ کہتے ہیں لشکر کے ایک ٹکڑے کو جس میں چار سو آدمی تک ہوتے ہیں) ہم صبح کو لڑے حرقات سے جہینہ میں سے ہے (حرقات بضم حا اور فتح را ایک قبیلہ ہے) پھر میں نے ایک شخص کو پایا اس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا۔ میں نے برچھی سے اس کو مار دیا۔ بعد اس کے میرے دل میں وہم ہوا (کہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنے پر مارنا درست نہ تھا) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا تھا اور تو نے اس کو مار ڈالا، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس نے ہتھیار سے ڈر کر کہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا تاکہ تجھے معلوم ہوتا کہ اس کے دل نے یہ کلمہ کہا تھا یا نہیں، (مطلب یہ ہے کہ دل کا حال تجھے کہاں سے معلوم ہوا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کاش! میں اسی دن مسلمان ہوا ہوتا (تو اسلام لانے کے بعد ایسے گناہ میں مبتلا نہ ہوتا کیونکہ اسلام لانے سے کفر کے اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں کسی مسلمان کو نہ ماروں گا جب تک اس کو ذوالبطین یعنی اسامہ نہ مارے۔ ( «بطين» تصغیر ہے بطن کی ادر «بطين» کہتے ہیں پیٹ کو۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو ذوالبطین اس لئے کہتے ہیں کہ ان کا پیٹ بڑا تھا) ایک شخص بولا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لڑو ان سے جب تک کہ فساد نہ رہے اور دین سب اللہ کیلئے ہو جائے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا ہم تو لڑے (کافروں سے) اس لئے کہ فساد نہ ہو اور تو اور تیرے ساتھی اس لئے لڑتے ہیں کہ فساد ہو۔

صحيح مسلم # 277
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp