كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثني زهير بن حرب ، واحمد بن خراش ، قالا: حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث ، حدثنا ابي ، قال: حدثني حسين المعلم ، عن ابن بريدة ، ان يحيى بن يعمر حدثه، ان ابا الاسود الديلي حدثه، ان ابا ذر حدثه، قال: اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو نائم، عليه ثوب ابيض، ثم اتيته فإذا هو نائم، ثم اتيته وقد استيقظ، فجلست إليه، فقال: " ما من عبد، قال: لا إله إلا الله، ثم مات على ذلك، إلا دخل الجنة "، قلت: " وإن زنى وإن سرق، قال: وإن زنى وإن سرق، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال: وإن زنى وإن سرق ثلاثا، ثم قال في الرابعة: على رغم انف ابي ذر، قال: فخرج ابو ذر وهو يقول: وإن رغم انف ابي ذر ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے، پھر میں آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو رہے تھے، پھر میں آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاگتے تھے۔ میں بیٹھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہے پھر مر جائے گا اسی اعتقاد پر (یعنی توحید پر) تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے کہا اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے؟ تین بار۔ ایسا ہی فرمایا چوتھی بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ ابوذر کی ناک میں خاک لگے ، پھر نکلے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اور وہ کہتے تھے: اگرچہ ابوذر کی ناک میں خاک لگے۔

صحيح مسلم # 273
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp