حدثني عمرو بن محمد بن بكير بن محمد الناقد ، حدثنا إسماعيل ابن علية ، عن سعيد الجريري ، حدثنا عبد الرحمن بن ابي بكرة ، عن ابيه ، قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " الا انبئكم باكبر الكبائر ثلاثا، الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وشهادة الزور، او قول الزور "، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم متكئا، فجلس فما زال يكررها، حتى قلنا: ليته سكت.
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا نہ بتلاؤں میں تم کو بڑا کبیرہ گناہ“، تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”شرک کرنا اللہ کے ساتھ (یہ تو ظاہر ہے کہ سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے)، دوسرے نافرمانی کرنا ماں باپ کی، تیسرے جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹ بولنا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکیہ لگائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور بار بار یہ فرمانے لگے (تاکہ لوگ خوب آگاہ ہو جائیں اور ان کاموں سے باز رہیں) ہم نے اپنے دل میں کہا کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ رہیں۔ (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ رنج نہ ہو ان گناہوں کا خیال کر کے کہ لوگ ان کو کیا کرتے ہیں)۔