كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن سلمة المرادي ، حدثنا عبد الله بن وهب ، عن عمرو بن الحارث . ح وحدثني عمرو بن سواد ، اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرنا عمرو بن الحارث ، ان ابا يونس مولى ابي هريرة حدثه، عن ابي هريرة ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ما انزل الله من السماء من بركة، إلا اصبح فريق من الناس بها كافرين، ينزل الله الغيث، فيقولون الكوكب كذا وكذا "، وفي حديث المرادي: بكوكب كذا وكذا.

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اتاری اللہ نے آسمان سے کوئی برکت مگر صبح کو ایک فرقہ اس کا انکار کرنے لگا۔ اللہ پانی برساتا ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں: فلاں فلاں تارہ نکلا یا ڈوبا اس کی وجہ سے پانی برسا۔ اور مرادی کی حدیث میں ہے: فلاں تارے فلاں تارے کے سبب سے۔

صحيح مسلم # 233
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp