كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا سريج بن يونس ، ويعقوب الدورقي ، قالا: حدثنا هشيم ، عن سيار ، عن الشعبي ، عن جرير ، قال: " بايعت النبي صلى الله عليه وسلم، على السمع والطاعة، فلقنني فيما استطعت، والنصح لكل مسلم "، قال يعقوب في روايته: قال: حدثنا سيار.

‏‏‏‏ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی سن لینے اور مان لینے کی (یعنی جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے اس کو سنوں گا اور بجا لاوَں گا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھلا دیا اتنا اور کہا کہ تو کہہ: جہاں تک مجھے قدرت ہے۔ (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمال شفقت تھی اپنی امت پر کہ شاید کوئی حکم دشوار ہو اور نہ ہو سکے تو بیعت میں خلل آئے اس لیے اتنا اور بڑھا دیا کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے) اور اس بات پر میں نے بیعت کی کہ ہر مسلمان کا خیر خواہ رہوں گا۔

صحيح مسلم # 201
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp