حدثني عمرو الناقد ، وابو بكر بن النضر ، وعبد بن حميد واللفظ لعبد، قالوا: حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ، قال: حدثني ابي ، عن صالح بن كيسان ، عن الحارث ، عن جعفر بن عبد الله بن الحكم ، عن عبد الرحمن بن المسور ، عن ابي رافع ، عن عبد الله بن مسعود ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ما من نبي بعثه الله في امة قبلي، إلا كان له من امته حواريون، واصحاب ياخذون بسنته ويقتدون بامره، ثم إنها تخلف من بعدهم خلوف، يقولون ما لا يفعلون، ويفعلون ما لا يؤمرون، فمن جاهدهم بيده فهو مؤمن، ومن جاهدهم بلسانه فهو مؤمن، ومن جاهدهم بقلبه فهو مؤمن، وليس وراء ذلك من الإيمان، حبة خردل "، قال ابو رافع: فحدثته عبد الله بن عمر، فانكره علي، فقدم ابن مسعود، فنزل بقناة، فاستتبعني إليه عبد الله بن عمر يعوده، فانطلقت معه، فلما جلسنا سالت ابن مسعود عن هذا الحديث، حدثنيه كما حدثته ابن عمر، قال صالح: وقد تحدث بنحو ذلك، عن ابي رافع
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا کہ جس کے اس کی امت میں سے حواری نہ ہوں اور اصحاب نہ ہوں جو اس کے طریقے پر چلتے ہیں اور اس کے حکم کی پیروی کرتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ پیدا ہوتے ہیں جو زبان سے کہتے ہیں اور کرتے نہیں اور ان کاموں کو کرتے ہیں جن کا حکم نہیں۔ پھر جو کوئی ان نالائقوں سے لڑے ہاتھ سے وہ مؤمن ہے اور جو کوئی لڑے زبان سے (ان کو برا کہے ان کی باتوں کا رد کرے) وہ بھی مؤمن ہے اور جو کوئی لڑے ان سے دل سے (ان کو برا جانے) وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے برابر بھی ایمان نہیں۔“ (یعنی اگر دل سے بھی برا نہ جانے تو اس میں ذرہ برابر بھی ایمان نہیں) ابورافع (جنہوں نے اس حدیث کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا اور نام ان کا اسلم یا ابراہیم یا ہرمز یا ثابت بن یزید تھا۔ (مولیٰ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) نے کہا: میں نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے نہ مانا اور انکار کیا۔ اتفاق سے میرے پاس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے اور قناۃ (مدینہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے) میں اترے تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھے اپنے ساتھ لے گئے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی عیادت کو میں ان کے ساتھ گیا۔ جب ہم بیٹھے تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا تھا۔ صالح بن کیسان نے کہا کہ حدیث ابورافع سے اسی طرح بیان کی گئی ہے۔