كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن حبيب الحارثي ، حدثنا حماد بن زيد ، عن إسحاق وهو ابن سويد ، ان ابا قتادة حدث، قال: كنا عند عمران بن حصين في رهط منا، وفينا بشير بن كعب، فحدثنا عمران يومئذ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الحياء خير كله "، قال: او قال: " الحياء كله خير "، فقال بشير بن كعب: إنا لنجد في بعض الكتب او الحكمة، ان منه سكينة ووقارا لله، ومنه ضعف، قال: فغضب عمران، حتى احمرتا عيناه، وقال: الا اراني احدثك، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتعارض فيه، قال: فاعاد عمران الحديث، قال: فاعاد بشير، فغضب عمران، قال: فما زلنا نقول فيه: إنه منا يا ابا نجيد، إنه لا باس به.

‏‏‏‏ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم عمران بن حصین کے پاس ایک رہط میں تھے، (رہط کہتے ہیں دس سے کم مردوں کی جماعت کو) اور ہمارے لوگوں میں بشیر بن کعب (ابن ابی الحمیری عدوی ابوایوب بصری) بھی تھے۔ عمران نے ایک دن حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیا خیر ہے بالکل یا حیا بالکل خیر ہے۔ بشیر بن کعب نے کہا: ہم نے بعض کتابوں میں یا حکمت میں دیکھا ہے کہ حیا کی ایک قسم تو سکینہ اور وقار ہے اللہ تعالی کے لئے اور ایک حیا ضعف نفس ہے۔ یہ سن کر عمران کو غصہ آیا ان کی آنکھیں لال ہو گئیں اور انہوں نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اس کے خلاف بیان کرتا ہے۔ ابوقتادہ نے کہا: عمران نے پھر دوبارہ اسی حدیث کو بیان کیا۔ بشیر نے پھر دوبارہ وہی بات کہی، جب عمران غصے ہوئے (اور انہوں نے قصد کیا بشیر کو سزا دینے کا) ہم سب کہنے لگے: اے ابا نجید! (یہ کنیت ہے عمران بن حصین کی) بشیر ہم میں سے ہے (یعنی مسلمان ہے) اس میں کوئی عیب نہیں (یعنی وہ منافق یا بے دین یا بدعتی نہیں ہے جیسے تم نے خیال کیا)۔

صحيح مسلم # 157
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp