كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا شيبان بن فروخ ، حدثنا سليمان يعني ابن المغيرة ، قال: حدثنا ثابت ، عن انس بن مالك ، قال: حدثني محمود بن الربيع ، عن عتبان بن مالك ، قال: قدمت المدينة فلقيت عتبان، فقلت: حديث بلغني عنك، قال: اصابني في بصري بعض الشيء، فبعثت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، اني احب ان تاتيني فتصلي في منزلي، فاتخذه مصلى، قال: فاتى النبي صلى الله عليه وسلم، ومن شاء الله من اصحابه، فدخل وهو يصلي في منزلي، واصحابه يتحدثون بينهم، ثم اسندوا عظم ذلك، وكبره إلى مالك بن دخشم، قالوا: ودوا انه دعا عليه فهلك، وودوا انه اصابه شر، فقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة، وقال: اليس يشهد ان لا إله إلا الله واني رسول الله؟ قالوا: إنه يقول ذلك وما هو في قلبه، قال: " لا يشهد احد، ان لا إله إلا الله واني رسول الله، فيدخل النار او تطعمه "، قال انس: فاعجبني هذا الحديث، فقلت لابني: اكتبه، فكتبه.

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حدیث بیان کی محمود بن ربیع نے، انہوں نے سنا عتبان بن مالک سے، محمود نے کہا کہ میں مدینہ میں آیا تو عتبان سے ملا اور میں نے کہا: ایک حدیث ہے جو مجھے پہنچی ہے تم سے (تو بیان کرو اس کو) عتبان نے کہا: میری نگاہ میں فتور ہو گیا (دوسری روایت میں کہ وہ اندھے ہو گئے اور شاید ضعف بصارت مراد ہو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ میں چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مکان پر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو مصلیٰ بنا لوں (یعنی ہمیشہ وہیں نماز پڑھا کروں۔ اور یہ درخواست اس لئے کہ آنکھ میں فتور ہو جانے کی وجہ سے مسجد نبوی میں ان کا آنا دشوار تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جن کو اللہ نے چاہا اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ساتھ لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے اور نماز پڑھنے لگے اور آپ کے اصحاب آپس میں باتیں کر رہے تھے (منافقوں کا ذکر چھڑ گیا تو ان کا حال بیان کرنے لگے اور ان کی بری باتیں اور بری عادتیں ذکر کرتے تھے) پھر انہوں نے بڑا منافق مالک بن دخشم کو کہا اور چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے بددعا کریں وہ مر جائے اور اس پر کوئی آفت اترے (تو معلوم ہوا کہ بدکاروں کے تباہ ہونے کی آرزو کرنا برا نہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا: کیا وہ (یعنی مالک بن دخشم) اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ سوا اللہ کے کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا: وہ تو اس بات کو زبان سے کہتا ہے لیکن دل میں اس کے یقین نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو گواہی دے لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی پھر وہ جہنم میں نہ جائے گا یا اس کو انگارے نہ کھائیں گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حدیث مجھ کو بہت اچھی معلوم ہوئی تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا اس کو لکھ لے، اس نے لکھ لیا۔

صحيح مسلم # 149
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp