كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثني زهير بن حرب ، حدثنا عمر بن يونس الحنفي ، حدثنا عكرمة بن عمار ، قال: حدثني ابو كثير ، قال: حدثني ابو هريرة ، قال: كنا قعودا حول رسول الله صلى الله عليه وسلم، معنا ابو بكر وعمر في نفر، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين اظهرنا، فابطا علينا، وخشينا ان يقتطع دوننا، وفزعنا فقمنا، فكنت اول من فزع، فخرجت ابتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى اتيت حائطا للانصار لبني النجار، فدرت به، هل اجد له بابا؟ فلم اجد، فإذا ربيع، يدخل في جوف حائط من بئر خارجة، والربيع الجدول، فاحتفزت كما يحتفز الثعلب، فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ابو هريرة؟ فقلت: نعم يا رسول الله، قال: ما شانك؟ قلت: كنت بين اظهرنا، فقمت فابطات علينا، فخشينا ان تقتطع دوننا، ففزعنا، فكنت اول من فزع، فاتيت هذا الحائط فاحتفزت كما يحتفز الثعلب، وهؤلاء الناس ورائي، فقال: يا ابا هريرة، واعطاني نعليه، قال: اذهب بنعلي هاتين، فمن لقيت من وراء هذا الحائط، يشهد ان لا إله إلا الله، مستيقنا بها قلبه، فبشره بالجنة، فكان اول من لقيت عمر، فقال: ما هاتان النعلان يا ابا هريرة؟ فقلت: هاتان نعلا رسول الله صلى الله عليه وسلم، بعثني بهما من لقيت، يشهد ان لا إله إلا الله، مستيقنا بها قلبه بشرته بالجنة، فضرب عمر بيده بين ثديي، فخررت لاستي، فقال: ارجع يا ابا هريرة، فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاجهشت بكاء، وركبني عمر، فإذا هو على اثري، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما لك يا ابا هريرة؟ قلت: لقيت عمر فاخبرته بالذي بعثتني به، فضرب بين ثديي ضربة خررت لاستي، قال: ارجع، فقال له رسول الله: يا عمر، ما حملك على ما فعلت؟ قال: يا رسول الله، بابي انت وامي، ابعثت ابا هريرة بنعليك، " من لقي يشهد ان لا إله إلا الله، مستيقنا بها قلبه بشره بالجنة "، قال: نعم، قال: فلا تفعل، فإني اخشى ان يتكل الناس عليها فخلهم يعملون، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فخلهم.

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے تھے اور ہمارے ساتھ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے اور آدمیوں میں۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے (اور باہر تشریف لے گئے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس آنے میں دیر لگائی تو ہم کو ڈر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو اکیلا پا کر نہ مار ڈالیں۔ ہم گھبرا گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ سب سے پہلے میں گھبرایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے کے لئے نکلا اور بنی نجار کے باغ کے پاس پہنچا (بنی نجار انصار میں سے ایک قبیلہ تھا) اس کے چاروں طرف دروازہ کو دیکھتا ہوا پھرا کہ دروازہ پاؤں تو اندر جاؤں (کیونکہ گمان ہوا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر تشریف لے گئے ہوں) دروازہ ملا ہی نہیں (شاید اس باغ میں دروازہ ہی نہ ہو گا یا اگر ہو گا تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گھبراہٹ میں نظر نہ آیا ہو گا) دیکھا کہ باہر کنویں سے ایک نالی باغ کے اندر جاتی ہے میں لومڑی کی طرح سمٹ کر اس نالی کے اندر گھسا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! میں کہا جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا حال ہے تیرا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہم لوگوں میں تشریف رکھتے تھے۔ پھر آپ تشریف لے گئے اور آپ نے آنے میں دیر لگائی تو ہم کو ڈر ہوا کہ کہیں دشمن آپ کو ہم سے جدا دیکھ کر نہ ستائیں۔ ہم گھبرا گئے اور سب س پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور اس باغ کے پاس آیا (دروازہ نہ ملا) تو اس طرح سمٹ کر گھس آیا جیسے لومڑی اپنے بدن کو سمیت کر گھس جاتی ہے اور سب لوگ میرے پیچھے آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے ابوہریرہ! اور عنایت کیے مجھ کو اپنے جوتے (نشانی کے لئے تاکہ اور لوگ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بات کو سچ سمجھیں) اور فرمایا: میرے دونوں جوتے لے کر جا اور جو کوئی تجھے اس باغ کے پیچھے ملے اور وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور اس بات پر دل سے یقین رکھتا ہو تو اس کو یہ سنا کر خوش کر دے کہ اس کے لیے جنت ہے۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جوتے لےکر چلا) تو سب سے پہلے میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا۔ انہوں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دے کر مجھ کو بھیجا ہے کہ میں جس سے ملوں اور وہ گواہی دیتا ہو لا الہ الا اللہ کی، دل سے یقین کر کے تو اس کو جنت کی خوشخبری دوں۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ میری چھاتی کے بیچ میں مارا تو میں سرین کے بل گرا۔ پھر کہا: اے ابوہریرہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ جا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر چلا گیا اور رونے والا ہی تھا کہ میرے ساتھ پیچھے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ پہنچے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! تجھے کیا ہوا۔ میں نے کہا: میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور جو پیغام آپ نے مجھے دے کر بھیجا تھا پہنچایا۔ انہوں نے میری چھاتی کے بیچ میں ایسا مارا کہ میں سرین کے بل گر پڑا اور کہا لوٹ جا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ ابوہریرہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتے دے کر بھیجا تھا کہ جو شخص ملے اور وہ گواہی دیتا ہو لا الہ الا اللہ کی دل سے یقین رکھ کر تو خوشخبری دو اس کو جنت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ایسا نہ کیجئیے کیونکہ میں ڈرتا ہوں، لوگ اس پر تکیہ کر بیٹھیں گے ان کو عمل کرنے دیجئیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ان کو عمل کرنے دو۔

صحيح مسلم # 147
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp