كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو الاحوص سلام بن سليم ، عن ابي إسحاق ، عن عمرو بن ميمون ، عن معاذ بن جبل ، قال: كنت ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له: عفير، قال: فقال: يا معاذ، تدري ما حق الله على العباد، وما حق العباد على الله؟ قال: قلت: الله ورسوله اعلم، قال: " فإن حق الله على العباد، ان يعبدوا الله ولا يشركوا به شيئا، وحق العباد على الله عز وجل، ان لا يعذب من لا يشرك به شيئا "، قال: قلت: يا رسول الله، افلا ابشر الناس؟ قال: لا تبشرهم فيتكلوا.

‏‏‏‏ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا جس کا نام عفیر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تو جانتا ہے اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ میں کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ اسی کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ جو شخص شرک نہ کرے اللہ اس کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: یارسول اللہ! میں خوش نہ کر دوں لوگوں کہ یہ سنا کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مت سنا ان کو ایسا نہ ہو کہ وہ اس پر بھروسہ کر بیٹھیں۔

صحيح مسلم # 144
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp