كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن النضر بن ابي النضر ، قال: حدثني ابو النضر هاشم بن القاسم ، حدثنا عبيد الله الاشجعي ، عن مالك بن مغول ، عن طلحة بن مصرف ، عن ابي صالح ، عن ابي هريرة ، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في مسير، قال: فنفدت ازواد القوم، قال: حتى هم بنحر بعض حمائلهم، قال: فقال عمر: يا رسول الله، لو جمعت ما بقي من ازواد القوم، فدعوت الله عليها، قال: ففعل، قال: فجاء ذو البر ببره، وذو التمر بتمره، قال: وقال مجاهد: وذو النواة بنواه، قلت: وما كانوا يصنعون بالنوى؟ قال: كانوا يمصونه ويشربون عليه الماء، قال: فدعا عليها حتى ملا القوم ازودتهم، قال: فقال عند ذلك: " اشهد ان لا إله إلا الله واني رسول الله، لا يلقى الله بهما عبد غير شاك فيهما، إلا دخل الجنة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک سفر (جنگ تبوک) میں تو لوگوں کے توشے تمام ہو گئے اور آپ نے قصد کیا لوگوں کے بعض اونٹ کاٹ ڈالنے کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! کاش آپ جمع کرتے لوگوں کے سب توشے اور پھر اس پر اللہ سے دعا کرتے (تاکہ اس میں برکت ہو اور سب کے لئے کافی ہو جائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تو جس کے پاس گیہوں تھی لے کر آیا اور جس کے پاس کھجور تھی وہ کھجور لے کر آیا اور جس کے پاس گٹھلی تھی وہ گٹھلی لےکر آیا۔ میں نے کہا: گٹھلی کو کیا کرتے تھے انہوں نے کہا: اس کو چوستے تھے پھر اس پر پانی پی لیتے تھے۔ راوی نے کہا: آپ نے ان سب توشوں پر دعا کی تو لوگوں نے اپنے اپنے توشہ کے برتنوں کو بھر لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے (وہی سچا اللہ ہے باقی سب جھوٹے معبود ہیں) اور میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں جو بندہ اللہ سے ملے اور ان دونوں باتوں میں اس کو شک نہ ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔

صحيح مسلم # 138
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp