كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا يحيي بن ايوب ، حدثنا ابن علية ، حدثنا سعيد بن ابي عروبة ، عن قتادة ، قال: حدثنا من لقي الوفد، الذين قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم من عبد القيس، قال سعيد: وذكر قتادة ابا نضرة ، عن ابي سعيد الخدري في حديثه هذا، ان اناسا من عبد القيس، قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالوا: يا نبي الله، إنا حي من ربيعة، وبيننا وبينك كفار مضر، ولا نقدر عليك إلا في اشهر الحرم، فمرنا بامر نامر به من وراءنا وندخل به الجنة، إذا نحن اخذنا به، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " آمركم باربع وانهاكم عن اربع، اعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا، واقيموا الصلاة، وآتوا الزكاة، وصوموا رمضان، واعطوا الخمس من الغنائم، وانهاكم عن اربع، عن الدباء، والحنتم، والمزفت، والنقير "، قالوا: يا نبي الله، ما علمك بالنقير؟ قال: بلى، جذع تنقرونه فتقذفون فيه من القطيعاء، قال سعيد او قال: من التمر، ثم تصبون فيه من الماء، حتى إذا سكن غليانه شربتموه، حتى إن احدكم او إن احدهم ليضرب ابن عمه بالسيف، قال: وفي القوم رجل اصابته جراحة كذلك، قال: وكنت اخباها حياء من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: ففيم نشرب يا رسول الله؟ قال: في اسقية الادم التي يلاث على افواهها، قالوا: يا رسول الله، إن ارضنا كثيرة الجرذان، ولا تبقى بها اسقية الادم، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: وإن اكلتها الجرذان، وإن اكلتها الجرذان، وإن اكلتها الجرذان، قال: وقال نبي الله صلى الله عليه وسلم لاشج عبد القيس: " إن فيك لخصلتين يحبهما الله، الحلم والاناة ".

‏‏‏‏ قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حدیث بیان کی اس شخص نے جو ملا تھا اس وفد سے جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے عبدالقیس کے قبیلہ میں سے (اور قتادہ رضی اللہ عنہ نے نام نہ لیا اس شخص کا جس سے یہ حدیث سنی اس کو تدلیس کہتے ہیں) سعید نے کہا: قتادہ نے ابونضرہ کا نام لیا انہوں نے سنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تو قتادہ نے اس حدیث کو ابونضرہ (منذر بن مالک بن قطعہ) سے سنا، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے (سعید بن مالک سنان سے) کہ کچھ لوگ عبدالقیس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! ہم ایک شاخ ہیں ربیعہ کی۔ اور ہمارے اور آپ کے بیچ میں مضر کے کافر ہیں۔ اور ہم نہیں آ سکتے آپ تک مگر حرام مہینوں میں تو حکم کیجئیے ہم کو ایسے کام کا جس کو ہم بتلا دیں اور لوگوں کو جو ہمارے پیچھے ہیں اور ہم اس کی وجہ سے جنت میں جائیں، جب ہم اس پر عمل کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو چار چیزوں کا حکم کرتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن چار چیزوں کا حکم کرتا ہوں وہ یہ ہیں کہ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو اور غنیمت کے مالوں میں سے پانچواں حصہ ادا کرو۔ اور منع کرتا ہوں تم کو چار چیزوں سے کدو کے تونبے اور سبز لاکھی برتن اور روغنی برتن اور نقیر سے۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! نقیر، آپ نہیں جانتے۔ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں جانتا، نقیر ایک لکڑی ہے جس کو تم کھود لیتے ہو پھر اس میں «قُطَيْعَاء» (ایک قسم کی چھوٹی کھجور اس کو شہریر بھی کہتے ہیں) بھگوتے ہو۔ سعید نے کہا: یا تمر بھگوتے ہو پھر اس میں پانی ڈالتے ہو۔ جب اس کا جوش تھم جاتا ہے تو اس کو پیتے ہو یہاں تک کہ تمہارا ایک یا ان کا ایک اپنے چچا کے بیٹے کو تلوار سے مارتا ہے (نشہ میں آ کر جب عقل جاتی رہتی ہے تو دوست دشمن کی شناخت نہیں رہتی اپنے بھائی کو، جس کو سب سے زیادہ چاہتا ہے تلوار سے مارتا ہے۔ شراب کی برائیوں میں سے یہ ایک بڑی برائی ہے جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا) راوی نے کہا: ہمارے لوگوں میں اس وقت ایک شخص موجود تھا (جس کا نام جہم تھا) اس کو اسی نشہ کی بدولت ایک زخم لگ چکا تھا اس نے کہا کہ لیکن میں اس کو چھپاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم کے مارے، میں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر کس برتن میں ہم شربت پئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیو چمڑے کے برتنوں میں مشکووں میں جن کا منہ باندھا جاتا ہے۔ (ڈوری یا تسمہ سے) لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمارے ملک میں چوہے بہت ہیں، وہاں چمڑے کے برتن نہیں رہ سکتے۔ آپ نے فرمایا: پیو چمڑے کے برتنوں میں اگرچہ چوہے ان کو کاٹ ڈالیں، اگرچہ چوہے ان کو کاٹ ڈالیں، اگرچہ چوہے ان کو کاٹ ڈالیں (یعنی جس طور سے ہو سکے چمڑے ہی کے برتن میں پیو۔ چوہوں سے حفاظت کرو لیکن ان برتنوں میں پینا درست نہیں کیونکہ وہ شراب کے برتن ہیں) راوی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا: تجھ میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ایک تو عقلمندی دوسری سہولت اور اطمینان، جلدی نہ کرنا۔

صحيح مسلم # 118
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp