حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، ومحمد بن المثنى ، ومحمد بن بشار والفاظهم متقاربة، قال ابو بكر: حدثنا غندر ، عن شعبة ، قال الآخران: حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن ابي جمرة ، قال: كنت اترجم بين يدي ابن عباس وبين الناس، فاتته امراة تساله عن نبيذ الجر، فقال: إن وفد عبد القيس، اتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من الوفد، او من القوم؟ قالوا: ربيعة، قال: مرحبا بالقوم، او بالوفد، غير خزايا ولا الندامى، قال: فقالوا: يا رسول الله، إنا ناتيك من شقة بعيدة، وإن بيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر، وإنا لا نستطيع ان ناتيك إلا في شهر الحرام، فمرنا بامر فصل نخبر به، من وراءنا ندخل به الجنة، قال: فامرهم باربع، ونهاهم عن اربع، قال: امرهم بالإيمان بالله وحده، وقال: هل تدرون ما الإيمان بالله؟ قالوا: الله ورسوله اعلم، قال: " شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وصوم رمضان، وان تؤدوا خمسا من المغنم، ونهاهم عن الدباء، والحنتم، والمزفت "، قال شعبة، وربما قال النقير، قال شعبة، وربما قال المقير: وقال: احفظوه، واخبروا به من ورائكم، وقال ابو بكر في روايته: من وراءكم، وليس في روايته المقير.
ابوجمرہ (نصر بن عمران) سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ان کے اور لوگوں کے بیچ میں مترجم تھا (یعنی اوروں کی بات کو عربی میں ترجمہ کر کے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو سمجھاتا) اتنے میں ایک عورت آئی جو پوچھتی تھی گھڑے کے نبیذ کے بارے میں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عبدالقیس کے وفد (وفد کے معنی اوپر گزر چکے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ وفد کون ہیں؟ یا یہ کس قوم کے لوگ ہیں؟“ لوگوں نے کہا ربیعہ کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرحبا ہو قوم یا وفد کو جو نہ رسوا ہوئے نہ شرمندہ۔“ (کیونکہ بغیر لڑائی کے خود مسلمان ہونے کے لئے آئے۔ اگر لڑائی کے بعد مسلمان ہوتے تو وہ رسوا ہوتے لونڈی غلام بنائے جاتے، مال لٹ جاتا تو شرمندہ ہوتے) ان لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے پاس دور دراز سے سفر کر کے آتے ہیں اور ہمارے اور آپ کے بیچ میں یہ قبیلہ ہے مضر کے کافروں کا تو ہم نہیں آ سکتے آپ تک مگر حرام کے مہینہ میں (جب لوٹ مار نہیں ہوتی) اس لئے ہم کو حکم کیجئیے ایک صاف بات کا جس کو ہم بتلا دیں اور لوگوں کو بھی اور جائیں اس کے سبب سے جنت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چار باتوں کا حکم کیا اور چار باتوں سے منع فرمایا ان کو حکم کیا اللہ کی توحید پر ایمان لانے کا اور ان سے پوچھا: ”تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ایمان گواہی دینا ہے اس بات کی کہ سوا اللہ کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بھیجے ہوئے ہیں اور نماز کا قائم کرنا اور زکوٰۃ کا دینا اور رمضان کے روزے رکھنا (یہ چار باتیں ہو گئیں۔ اب ایک پانچویں بات اور ہے) اور غنیمت کے مال میں سے پانچویں حصے کا ادا کرنا۔“ (یعنی جو کافروں کی لوٹ میں سے مال ملے اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لئے نکالنا) اور منع فرمایا ان کو کدو کے تونبے اور سبز لاکھی گھڑے اور روغنی برتن سے۔ شعبہ نے کبھی یوں کہا اور نقیر سے اور کبھی کہا: مقیر سے (دونوں کے معنی اوپر گزر چکے ہیں) اور فرمایا: ”اس کو یاد رکھو اور ان باتوں کی ان لوگوں کو بھی خبر دو جو تمہارے پیچھے ہیں۔“ اور ابوبکر بن شیبہ نے «مَنْ وَرَاءَكُمْ» کہا بدلے «مِنْ وَرَائِكُمْ» کے (اور مطلب دونوں کا ایک ہے اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں ہے)۔