كِتَاب الْإِيمَانِ ایمان کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد بن جميل بن طريف بن عبد الله الثقفي ، عن مالك بن انس فيما قرئ عليه، عن ابي سهيل ، عن ابيه ، انه سمع طلحة بن عبيد الله ، يقول: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل نجد، ثائر الراس، نسمع دوي صوته، ولا نفقه ما يقول، حتى دنا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا هو يسال عن الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " خمس صلوات في اليوم والليلة "، فقال: هل علي غيرهن؟ قال: لا، إلا ان تطوع، وصيام شهر رمضان، فقال: هل علي غيره؟ فقال: لا، إلا ان تطوع، وذكر له رسول الله صلى الله عليه وسلم الزكاة، فقال: هل علي غيرها؟ قال: لا، إلا ان تطوع، قال: فادبر الرجل، وهو يقول: والله لا ازيد على هذا، ولا انقص منه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: افلح إن صدق ".

‏‏‏‏ طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے، نجد والوں (نجد عرب میں ایک ملک ہے) میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جس کے بال بکھرے تھے۔ ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سنتے تھے لیکن سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کہتا ہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آیا تب معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن رات میں پانچ نمازیں ہیں۔ وہ بولا: ان کے سوا میرے اوپر اور کوئی نماز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ تو نفل پڑھنا چاہئے اور رمضان کے روزے ہیں۔ وہ بولا: مجھ پر رمضان کے سوا اور کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ نفل روزہ رکھنا چاہے۔، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا۔ وہ بولا: مجھ پر اس کے سوا اور کوئی چیز ہے؟ فرمایا: نہیں مگر یہ کہ تو نفل ثواب کے لئے صدقہ دینا چاہے راوی نے کہا: پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہتا جاتا تھا: اللہ کی قسم! میں نہ ان سے زیادہ کروں گا نہ ان میں کمی کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مراد پائی اس نے اگر سچا ہے۔

صحيح مسلم # 100
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp