مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

وحدثنا ابو جعفر الدارمي، حدثنا بشر بن عمر، قال: سالت مالك بن انس، عن محمد بن عبد الرحمن الذي يروي، عن سعيد بن المسيب، فقال: ليس بثقة، وسالته عن صالح مولى التوامة، فقال: ليس بثقة، وسالته عن ابي الحويرث، فقال: ليس بثقة، وسالته عن شعبة الذي روى عنه ابن ابي ذئب، فقال: ليس بثقة، وسالته عن حرام بن عثمان، فقال: ليس بثقة، وسالت مالكا، عن هؤلاء الخمسة، فقال: ليسوا بثقة، في حديثهم وسالته عن رجل آخر نسيت اسمه، فقال: هل رايته في كتبي؟ قلت: لا، قال: لو كان ثقة، لرايته في كتبي

‏‏‏‏ بشر بن عمر سے روایت ہے، میں نے امام مالک سے پوچھا: محمد بن عبدالرحمٰن کے متعلق جو روایت کرتا ہے سعید بن المیسب سے۔ انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہے اور پوچھا میں نے مالک بن انس سے ابوالحویرث کے متعلق۔ انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہے۔ اور پوچھا میں نے ان سے شعبہ کے متعلق جس سے روایت کرتا ہے ابن ابی ذئب، انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہے۔ اور پوچھا میں نے ان سے صالح کے متعلق جو مولٰی ہے توامہ کا۔ انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہے۔ اور پوچھا میں نے ان سے حرام بن عثمان کے متعلق۔ انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہے۔ اور پوچھا میں نے امام مالک سے ان پانچوں آدمیوں کے متعلق (جن کا ذکر اوپر گزرا) انہوں نے کہا: وہ ثقہ نہیں ہیں اپنی حدیث میں۔ اور میں نے پوچھا ان سے ایک اور شخص کے متعلق جس کا نام میں بھول گیا تو انہوں نے کہا: تو نے اس کی روایت میری کتابوں میں دیکھی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ امام مالک نے کہا: اگر وہ ثقہ ہوتا تو تُو اس کی روایت میری کتابوں میں دیکھتا۔

صحيح مسلم # 85
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp