مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

وحدثني محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال: قال لي شعبة: ايت جرير بن حازم، فقل له: لا يحل لك ان تروي، عن الحسن بن عمارة، فإنه يكذب، قال ابو داود: قلت لشعبة: وكيف ذاك؟ فقال: حدثنا عن الحكم باشياء لم اجد لها اصلا، قال: قلت له: باي شيء؟ قال: قلت للحكم: اصلى النبي صلى الله عليه وسلم على قتلى احد؟ فقال: لم يصل عليهم، فقال الحسن بن عمارة، عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، إن النبي صلى الله عليه وسلم صلى عليهم، ودفنهم، قلت للحكم: ما تقول في اولاد الزنا؟ قال: يصلى عليهم، قلت: من حديث من يروى؟ قال: يروى عن الحسن البصري، فقال الحسن بن عمارة: حدثنا الحكم، عن يحيى بن الجزار، عن علي

‏‏‏‏ ابوداوَد سے روایت ہے، مجھ سے شعبہ نے کہا: تو جریر بن حازم کے پاس جا اور کہہ تجھ کو درست نہیں حسن بن عمارہ سے روایت کرنا کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ابوداوَد نے کہا: میں نے شعبہ سے پوچھا: کیونکر معلوم ہوا کہ وہ جھوٹ بولتا ہے؟ شعبہ نے کہا: اس وجہ سے کہ حسن بن عمارہ نے حکم سے چند حدیثیں نقل کیں جن کی اصل میں نے کچھ نہ پائى۔ میں نے کہا: وہ کونسی حدیثیں ہیں؟ شعبہ نے کہا: میں نے حکم سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے شہیدوں پر نماز پڑھی تھی؟ حکم نے کہا: نہیں۔ پھر حسن بن عمارہ نے حکم سے روایت کیا۔ اس نے مقسم سے، اس نے سيدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی احد کے شہیدوں پر اور دفن کیا ان کو۔ اور میں نے حکم سے کہا: تم زنا کی اولاد کے حق میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ان پر نماز پڑھی جائے جنازے کی۔ میں نے کہا: کس سے روایت کیا گیا ہے اس باب میں؟ انہوں نے کہا: حسن بصری سے۔ حسن بن عمارہ نے کہا: مجھ سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن الجزار سے سنا، انہوں نے سيدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔

صحيح مسلم # 74
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp