مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

وحدثني حجاج، حدثنا سليمان بن حرب، قال: سمعت سلام بن ابي مطيع، يقول: بلغ ايوب، اني آتي عمرا، فاقبل علي يوما، فقال: ارايت رجلا لا تامنه على دينه، كيف تامنه على الحديث؟،

‏‏‏‏ سلام بن ابی مطیع سے روایت ہے ایوب کو خبر پہنچی کہ میں عمرو عبید کے پاس جاتا ہوں تو ایک روز میرے پاس آئے اور کہنے لگے: تو کیا سمجھتا ہے جس شخص کے دین پر تجھے بھروسہ نہ ہو کیا اس کی حدیث پر تو بھروسا کر سکتا ہے۔

صحيح مسلم # 70
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp