مُقَدِّمَةٌ مقدمہ

وحدثني حسن بن علي الحلواني، قال: حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا همام، قال: دخل ابو داود الاعمى، على قتادة، فلما قام، قالوا: إن هذا يزعم انه لقي ثمانية عشر بدريا، فقال قتادة: هذا كان سائلا قبل الجارف، لا يعرض في شيء من هذا، ولا يتكلم فيه، فوالله ما حدثنا الحسن، عن بدري مشافهة، ولا حدثنا سعيد بن المسيب، عن بدري مشافهة، إلا عن سعد بن مالك،

‏‏‏‏ ہمام سے روایت ہے، ابوداؤد اعمیٰ قتادہ کے پاس آیا۔ جب وہ اٹھ کر چلا تو لوگوں نے کہا: یہ کہتا ہے کہ میں ان اٹھارہ صحابیوں سے ملا جو بدر کی لڑائی میں شریک تھے۔ قتادہ نے کہا: یہ تو طاعون جارف سے پہلے بھیک مانگا کرتا تھا۔ اس کو حدیث روایت کرنے کا کب خیال تھا نہ کبھی اس نے گفتگو کی حدیث میں۔ اللہ کی قسم! حسن بصری نے (جو ابوداؤد سے عمر میں زیادہ تھے اور حدیث کے عالم بھی تھے) کوئی حدیث ہم سے نہیں بیان کی کسی بدری صحابی سے سن کر نہ سعید بن المسیب نے مگر سعد بن مالک سے۔

صحيح مسلم # 64
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp